Aaj TV News

BR100 4,760 Increased By ▲ 117 (2.52%)
BR30 20,622 Increased By ▲ 327 (1.61%)
KSE100 45,851 Increased By ▲ 547 (1.21%)
KSE30 17,940 Increased By ▲ 232 (1.31%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,270,322 516
DEATHS 28,405 13
Sindh 468,401 Cases
Punjab 439,450 Cases
Balochistan 33,211 Cases
Islamabad 106,777 Cases
KP 177,646 Cases

کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے دہشتگرد افغان حساس ادارے اور سیکیورٹی فورسز کے سابق اہلکار نکلے۔ دہشتگردوں سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق گرفتار دہشتگردوں کو حساس ادارے کا تجربہ ہونے کے باعث مشن سونپا گیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر قائد کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشت گردوں سے برآمد موبائلز کا فرانزک مکمل ہو گیا، جس سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق گرفتار دہشت گردوں میں افغان حساس ادارے اور سیکیورٹی ادارے کے سابق اہلکار شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ایک دہشت گرد افغان حساس ادارے کا اعلیٰ افسر جب کہ دو سیکیورٹی فورسز کے سابق اہلکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان کو انٹیلی جنس اور آپریشن کا خاص تجربہ ہونے کے باعث دہشت گرد گروہ میں بھرتی کیا گیا تھا۔

بتایاگیا ہے کہ یہ تمام دہشت گرد بظاہر افغان فورسز چھوڑ کر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیےکام کررہے تھے۔

دہشت گردوں کی جانب سے سندھ اسمبلی کے علاوہ ایک اورحساس عمارت پر دوبارہ حملے کی منصوبہ بندی کی گئی جب کہ کچھ خاص شخصیات اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کا ٹاسک انھیں دیا گیا تھا۔

سی ٹی ڈی کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ تمام گرفتار دہشت گرد عدالت کے روبرو اقبال جرم کریں کیونکہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان دہشت گردوں سے مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کےلیے خط لکھ دیاگیا ہے۔

خط ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی جانب سے لکھا گیا ہےاور استدعا کی گئی ہے کہ جلد جے آئی ٹی قائم کردی جائے۔

واضح رہے کہ شاہ لطیف ٹاؤن سے گرفتار دہشتگردوں نے انکشاف کیا تھا کہ دہشتگردوں کا ہدف سندھ اسمبلی تھی۔ دہشتگردوں نے انکشاف کیا کہ سندھ اسمبلی کے بعد اہم مقامات کو ٹارگٹ کرنا تھا، تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ بارود سے بھرا رکشہ اور خودکش جیکٹس تیار کی گئی ہیں۔

دہشتگردوں کا موبائل فون اور کمیونیکشن ڈیٹا بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ دہشتگردوں کے گروپ کو افغانستان سے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ شاہ لطیف ٹاؤن سے گرفتار افغان شہری ہیں۔ سی ٹی ڈی حساس ادارے دہشتگردوں سے مسلسل تفتیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے چھاپہ مارا تھا ۔

جہاں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ سے 1دہشت گرد ہلاک جبکہ غیر ملکیوں سمیت 5 اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی عمر شاہد نے آپریشن کے بعد موقع پر موجود میڈیا سے گفتگو کے دوران آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 6 دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر مکان پر چھاپہ مارا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 1دہشت گرد ہلاک ہو گیا جبکہ 5 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔