Aaj TV News

BR100 4,668 Increased By ▲ 50 (1.09%)
BR30 20,892 Increased By ▲ 107 (0.52%)
KSE100 44,822 Increased By ▲ 488 (1.1%)
KSE30 17,521 Increased By ▲ 178 (1.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,264,384 720
DEATHS 28,269 17
Sindh 465,486 Cases
Punjab 437,793 Cases
Balochistan 33,120 Cases
Islamabad 106,445 Cases
KP 176,774 Cases

نئی پرائیویسی پالیسی پر شدید تنقید کے بعد واتس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے وضاحت پیش کردی ہے۔

ول کیتھ کارٹ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شئیر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ واٹس ایپ کی نئی پالیسی سے صارفین متاثر نہیں ہوں گے، نہ ہی ان کا ڈیٹا کسی کو فراہم کیا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے باعث واٹس ایپ اور فیس بک نجی پیغامات یا کالز کو نہیں دیکھ سکتے، جبکہ وہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور عالمی سطح پر اس کے دفاع کے لیے پر عزم ہیں۔

ول کیتھ کا مزید کہنا تھا کہ کہ انہوں نے اپنی پالیسی کو شفافیت کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے اور اس میں پیپ ٹو بزنس آپشنل فیچرز کی بہتر وضاحت کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس پالیسی کا اکتوبر میں تحریر کردیا تھا۔ جس میں واٹس ایپ میں موجود کامرس کو بھی شامل کیا تھا۔

واٹس ایپ کے سربراہ نے ٹویٹر پیغام میں تحریر کیا کہ ہر ایک کو شاید علم نہیں کہ متعدد ممالک میں کاروباری اداروں کے واٹس ایپ پیغامات کتنے عام ہیں، درحقیقت روزانہ سترہ کروڑ سے زیادہ افراد کسی ایک بزنس اکاؤنٹ سے میسج کرتے ہیں اور متعدد ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے صارفین کو آٹھ فروری تک نئی اپ ڈیٹس بھیجنا شروع کی ہیں، جو آٹھ فروری تک اس قبول نہیں کرے گا اس کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائیگا۔