Aaj TV News

BR100 4,355 Decreased By ▼ -5 (-0.12%)
BR30 22,224 Increased By ▲ 12 (0.06%)
KSE100 41,876 Increased By ▲ 47 (0.11%)
KSE30 17,674 Decreased By ▼ -23 (-0.13%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 307,418 532
DEATHS 6,432 8

کیمیکل کاسٹریشن (جنسی خواہش کو ختم کرنے والی دوا) انافروڈ سیاک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد جنسی طلب کو کم یا ختم کرنا، کینسر کا علاج کرنا ہو سکتا ہے اور اس طریقہ کار میں کسی بھی جسمانی عضو کو نکالا نہیں جاتا، جبکہ سرجیکل کاسٹریشن میں جنسی غدودیں آپریشن کے ذریعے نکال دی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر شبیر احمد حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے کڈنی سنٹر میں یورالوجی کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ سرجیکل کاسٹریشن یا کیمیکل کاسٹریشن کا تعلق بھی یورولوجی کے شعبے کے ساتھ ہے۔

ڈاکٹر شبیر کا کہنا ہے کہ کاسٹریشن دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ انسانی بدن سے خصیوں کو جراحی کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے جب کہ دوسرا طریقہ کیمیکل یا ادویات کے ذریعے کاسٹریشن کا عمل ہے۔

ڈاکٹر شبیر کے مطابق کاسٹریشن چاہے سرجیکل طریقے سے ہو یا کیمیکل طریقے سے، یہ ضروری نہیں ہے کہ اس انسان کی جنسی لذت کے ہارمونز کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ کاسٹریشن کرنے سے زیادہ تر مریضوں میں یہ ہوتا ہے کہ ان میں تولیدی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ جنسی لذت کے حوالے سے ان کے عضو خاص میں تناؤ کاسٹریشن کے بعد بھی ممکن ہے لیکن زیادہ تر کیسز میں جنسی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔

اخراجات کے حوالے سے ڈاکٹر شبیر نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں سرجیکل کاسٹریشن پر 10 ہزار تک خرچہ آتا ہے جبکہ کیمیکل کاسٹریشن ایک مہنگا علاج ہے اور اس کی ایک گولی یا انجیکشن پانچ ہزار تک کا ہے جو مریض کو لمبے عرصے تک استعمال کرنا ہوتا ہے۔