Aaj TV News

BR100 4,355 Decreased By ▼ -5 (-0.12%)
BR30 22,224 Increased By ▲ 12 (0.06%)
KSE100 41,876 Increased By ▲ 47 (0.11%)
KSE30 17,674 Decreased By ▼ -23 (-0.13%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 307,418 532
DEATHS 6,432 8

اسرائیل نے شام کو ایران کے لیے ایک ناقابل برداشت جہنم میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ایرانی فورسز اور اس کے ماتحت ملیشیاؤں پر اسرائیلی فضائی حملوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے۔ ان حملوں کا سب سے زیادہ شکار لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور اس کے عناصر بنے۔ یہ بات اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایک نئی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

امریکی چینل فوکس نیوز نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی مذکورہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل نے جمعے کے روز شمالی شام میں فضائی حملوں کے دوران میزائل تیار کرنے والی ایک تنصیب کو بھی تباہ کر دیا۔

اس سلسلے میں ImageSat International کمپنی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں حلب شہر کے باہر میزائلوں کے ایک کمپلیکس پر اسرائیلی فضائی حملوں کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ میزائلوں کی یہ تنصیب غالباً تباہ ہو چکی ہے اور عسکری آلات اور ساز و سامان کو نقصان پہنچا۔

مذکورہ فضائی حملے کے دو روز بعد 13 ستمبر کو پیش کیے جانے والے جائزے کے مطابق اس حملے کا مقصد شام میں حزب اللہ ملیشیا کے لیے میزائلوں کی تیاری کو کمزور کرنا تھا۔

ذمے داران کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ تین برسوں کے دوران شام میں سرگرم ایرانی فورسز اور اس کی ایجنٹ ملیشیاؤں کے خلاف 200 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔

اسرائیلی اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" نے سب سے پہلے فضائی حملوں سے متعلق اس نئے دعوے کے بارے میں آگاہ کیا۔ سال 2018ء میں امریکی اور مغربی انٹیلی جنس ذرائع کا خیال تھا کہ ایران نے حزب اللہ کے لیے جدید ہتھیاروں کی کھیپیں بھیجی ہیں۔ ان میں(GPS) کا نظام بھی شامل تھا۔

اس نظام کا مقصد عام میزائلوں کو گائیڈڈ میزائلوں میں تبدیل کرنا تھا۔