Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

اتوار کے دن پاکستان بھر میں سورج گرہن ساڑھے نو بجے سے لیکر ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہنے کے امکانات ہیں، سورج گرہن کیا ہے اور اس کے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

ماہرین فلکیات کے مطابق  زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔

اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے۔

اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔ چاند کے سورج اور زمین کے درمیان آجانے کا عمل سورج گرہن کہلاتا ہے۔

سورج گرہن انسانی جسم خصوصی طور پر آنکھوں کے لئے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سورج گرہن کے موقع پر تھوڑی سی لاپرواہی انسان کو بینائی سے مکمل محروم کر سکتی ہے۔

آئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ناصر چوہدری نے بتایا کہ سورج گرہن کے دوران آنے والی سورج کی شعائیں آنکھوں کے لئے خطرناک ہو سکتی ہیں۔ بے دھیانی یا مستی میں سورج کی طرف ایک پل کے لئے دیکھنا بھی بینائی کو مکمل ضائع کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے موقع پر بے خیالی یا تجسس میں سورج کی طرف چند لمحات کا دیکھنا بھی انسان کو قوت بینائی سے تا حیات محروم کر سکتا ہے، زیادہ تجسس ہو تو ٹی وی پر دیکھ لیں۔

شہریوں سے درخواست ہے باہر نکلنے سے گریز کریں، اگر باہر نکلیں تو آنکھوں پر یو وی چشمہ اور جسم کو ڈھانپ لیں تاکہ سورج کے شعاعوں سے محفوظ رہیں۔

یاد رہے اسی ماہ کے شروع میں لاہور سمیت پاکستان بھر میں چاند گرہن ہوا تھا۔