سلمان علی آغا نے پانی کی بوتل زمین پر کیوں پھینکی؟ پاکستانی ہیڈ کوچ کی وضاحت آگئی
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے آخری گروپ میچ میں نمیبیا کے خلاف کپتان سلمان علی آغا کی جانب سے ڈگ آؤٹ میں پانی کی بوتل زمین پر پھینکنے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے وضاحت پیش کردی ہے۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر 8 مرحلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے قبل کولمبو میں جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ سلمان علی آغا نے بوتل اس لیے نہیں پھینکی کہ وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے غصے میں تھا بلکہ انہوں نے خواجہ نافع کے آؤٹ ہونے پر بوتل پھینکی تھی۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ عثمان طارق اٹیک اور ڈیفنس دونوں میں استعمال ہوتا ہے، نواز نے پچھلے سال میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے، شاداب نے بھی واپسی کے بعد سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ ہر میچ میں بہترین ٹیم منتخب کی ہے، سلمان مرزا بدقسمت تھے کہ وہ پہلے میچ کے بعد نہیں کھیل سکے، وہ جب سے آئے ہیں ان کی کارکردگی بہترین رہی ہے۔ جب ہم سمجھیں گے کہ کنڈیشنز سوٹ کریں گی تو نسیم شاہ کو بھی کھلاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صائم نے پہلے اچھا اسکور کیا ہے، 2، 3 میچوں سے فرق نہیں پڑے گا، وہ ٹورنامنٹ میں اچھی بولنگ کررہے ہیں۔
کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم کو معلوم ہے کہ ہمیں ان سے کیا درکار ہے، ہمیں بابر سے مڈل میں ان کے رول کی ضرورت ہے، بابر اعظم کو نمیبیا کے خلاف 11 ویں 12 ویں اوور میں بھجوانے کا فائدہ نہیں تھا، بابر کو معلوم ہے کہ ان کا پاور پلے میں اسٹرائیک ریٹ 100 سے کم ہے ، یہ وہ رول نہیں جو ہمیں بابر سے چاہیے، امریکا کے میچ میں بابر نے اسٹرائیک ریٹ بڑھایا تھا، ایشیا کپ کے بعد ہم بابر کو مخصوص رول کے لیے واپس لائے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بابر کے پاس مخصوص مہارت ہے اور کچھ وقت ایسے ہوتے ہیں جب دوسرے وہ رول زیادہ بہتر ادا کر سکتے ہیں، فخر زمان ہمارے اسکواڈ میں ہیں ان کی جب ضرورت ہو گی وہ کھیلیں گے، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ بہترین ٹیم کو ہی میدان میں اتاریں، سری لنکا میں اسپنرز کا کردار زیادہ رہا ہے دیکھیں گے کہ کمبی نیشن کیا بہتر رہتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں سپر 8 مرحلے میں کل بروز ہفتہ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوں گی۔