Aaj News

کراچی میں راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 12 افراد جاں بحق، مقدمہ درج

زکوۃ تقسیم کرنے والی فیکٹری سیل ,مالکان سمیت 9افراد کیخلاف مقدمہ درج
اپ ڈیٹ 01 اپريل 2023 12:04pm
<p>فوٹو — آئی این پی</p>

فوٹو — آئی این پی

<p>فوٹوــ اسکرین گریپ</p>

فوٹوــ اسکرین گریپ

<p>فوٹوــ اسکرین گریب</p>

فوٹوــ اسکرین گریب

کراچی میں سائٹ ایریا کے علاقے میں راشن کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے 12 افراد جاں بحق ہوگئے, واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق سائٹ ایریا نورس چورنگی پر راشن کی تقسیم کے دوران بَھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 12 افراد جاں بحق ہوگئے، مرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ راشن تقسیم کے دوران بہت سے افراد بے ہوش بھی ہوگئے جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال میں زیر علاج کچھ افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق راشن تقسیم کے دوران بَھگدڑ کے دوران نالے کی دیوار بھی گری، کئی افراد نالے کے پانی میں گرے جبکہ کچھ بھاگنے کے دوران گر کر زخمی ہوئے۔ فیکٹری کے جس گیٹ پر آٹا تقسیم کیا جارہا تھا وہاں جگہ بہت تنگ تھی، بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راشن کی تقسیم کے حوالے سے انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع نہیں دی گئی۔

پولیس کے مطابق راشن تقسیم کرنے والی انتظامیہ کے 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

راشن تقسیم کے دوران بھگدڑ مچنے سے قبل نالے میں لائن پھٹنے سے متاثرہ مقام پر پانی پھیل گیا تھا۔ بجلی کے تار بھی نالے کے پانی میں گرے ، ابتدائی طور پر کرنٹ لگنے سے کسی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

سائٹ ایریا میں فیکٹری کے باہر راشن لینے کے لئے آنے والی خاتون نے آج نیوز کو بتایا کہ لوگوں کو راشن لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، خاتون نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خدمت کا کام ایسے تماشا کر کے نہیں کیا جاتا۔

عینی شاہد کے مطابق پیسے بانٹنے سے پہلے فیکٹری کے دروازے بند تھے، فیکٹری کا دروازہ جیسے ہی کھلا بچے اور خواتین اندر کی طرف بھاگے تھے۔

عینی شاہد نے بتایا کہ لوگوں کو روکنے کے لئے فیکٹری ملازمین نے پانی چھوڑا، بھگدڑ اور پانی کے پریشر سے خواتین اور بچے ایک دوسرے پر گرے، میری اپنی 11 سالہ بیٹی امہ ہانی بھی اس واقعے میں جاں بحق ہوئی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا فیکٹری واقعے کے متاثرین کیلئے معاوضے کا اعلان

وزیراعلیٰ مراد علی شاہد نے فیکٹری واقعے میں جاں بحق افراد کے ورثاء کے لیے 5 لاکھ جب کہ زخمی شخص کے لیے 1 لاکھ مالی امداد کا اعلان کردیا۔

مراد علی شاہ نے چیف سیکریٹری کو متاثریں کے کوائف فوری حاصل کرنے کی ہدایت کردی، کوائف اکٹھے ہوتے ہی امدادی رقم تقسیم کی جائے گی، فیکٹری میں 2 ہزار روپے فی شخص تقسیم کیے جارہے تھے۔

ذرائع کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں کیمیکل ملے پانی میں گرنے سے ہوئیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے راشن کی تقسیم میں بھگدڈ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی۔

کامران ٹیسوری نے افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی: امداد کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے اموات کے واقعے کا مقدمہ درج

کراچی کے علاقے سائٹ ایریا کی فیکٹری میں امداد کی تقسیم کے دوران بھگدڑ سے اموات کے واقعے کا مقدمہ فیکٹری مالک سمیت 9 افراد کے خلاف سائٹ تھانے میں درج کرلیا گیا۔

مقدمے میں لاپرواہی اور غفلت کی دفعہ شامل کی گئی۔

مقدمے کے مطابق زکوٰۃ کی رقم کی تقسیم کے دوران بَھگدڑ مچنے سے اموات ہوئیں، فیکٹری انتظامیہ نے زکوٰۃ تقسیم سے متعلق ضلعی انتظامیہ کولاعلم رکھا۔ زکوٰۃ تقسیم کے دوران چوکیدار نے مین گیٹ کے ساتھ چھوٹا گیٹ کھولا، چھوٹا گیٹ کھلا تو خواتین اور بچے اندر داخل ہوئے۔

مقدمے میں نامزد ملزموں میں سے تاحال 8 ملزم گرفتار ہیں۔

دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی تفتیشی رپورٹ تیار کرلی۔

رپورٹ کے مطابق فیکٹری انتظامیہ نے ضلعی انتظامیہ سے این او سی بھی حاصل نہیں کیا تھا،زکوٰۃ تقسیم کے وقت ہجوم فیکٹری کے اندر تھا، فیکٹری کا گیٹ بھگدڑ کے وقت بند تھا،فیکٹری میں پانی بھی جمع تھا۔

اے ڈی سی ون کیماڑی نے رپورٹ کمشنر کراچی کو ارسال کر دی۔

karachi

FIR

Stampede

Ration distribution

Comments are closed on this story.