Aaj News

جنک فوڈ کھانے اور بدتمیزی میں کیا تعلق ہے ، سائنسدانوں نے پتہ لگا لیا

کھانے میں نمک شامل کرنے سے مردوں کی عمر دو سال سے زیادہ اور خواتین کی ڈیڑھ سال تک کم ہو جاتی ہے۔
شائع 26 جنوری 2023 09:44pm
<p>تصویر بزریعہ شٹر اسٹاک</p>

تصویر بزریعہ شٹر اسٹاک

بہت سے مضامین اور عوامی خدمت کے اشتہارات میں عوام کو کھانے میں نمک کی مقدار کم کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ایسے میں کچھ مینوفیکچررز نے اپنی مصنوعات میں سوڈیم کی مقدار بھی کم کردی ہے۔

وجہ واضح ہے کہ جنک فوڈ، تیل والے کھانے اور نمک بلڈ پریشر بڑھاتا ہے اور گزشتہ سال کی گئی ایک تحقیق میں یہاں تک پتہ چلا ہے کہ کھانے میں نمک شامل کرنے سے مردوں کی عمر دو سال سے زیادہ اور خواتین کی ڈیڑھ سال تک کم ہو جاتی ہے۔

لیکن، ایڈنبرا یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق نمک انسانوں کے رویے بھی تبدیل کرسکتا ہے۔

بالغان کے لیے تجویز کردہ نمک کی مقدار روزانہ چھ گرام سے کم ہے، لیکن زیادہ تر لوگ عموماً نو گرام تک نمک استعمال کرلیتے ہیں۔

یہ بلڈ پریشر کو بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کا دورہ، فالج اور ویسکولر ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگرچہ نمک کے دل اور دوران خون کے نظام پر اثرات اچھی طرح سے واضح کئے جاچکے ہیں، لیکن انسانی رویے پر زیادہ نمک والی خوراک کے اثرات کے بارے میں بہت کم معلوم تھا، جس نے ایڈنبرا یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو متوجہ کیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک والی غذا چوہوں میں تناؤ کے ہارمون کی سطح میں 75 فیصد اضافہ کرتی ہے۔

چوہے قدرتی طور پر کم نمک والی خوراک کھاتے ہیں، پھر بھی ان کا نمک کا استعمال عام انسانی خوراک کی نقل کرتا ہے۔

محققین نے پایا کہ زیادہ نمک کے استعمال سے تناؤ کے ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ بھی پتا چلا کہ کہ چوہوں میں ماحولیاتی تناؤ کے خلاف ہارمونل ردعمل عام خوراک کے مقابلے میں دوگنا تھا۔

نمک خاص طور پر ان دماغی پروٹین کے لیے ذمہ دار جینز کی سرگرمی کو بڑھاتا ہے جو تناؤ کے لیے جسم کے ردعمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔

آپ وہی ہیں جو آپ کھاتے ہیں

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سنٹر فار کارڈیو ویسکولر سائنسز کے پروفیسر میتھیو بیلی نے کہتے ہیں کہ لوگ وہی ہیں جو وہ کھاتے ہیں، اور یہ سمجھنا کہ کس طرح زیادہ نمک والی غذائیں دماغی صحت کو متاثر کرتی ہیں، صحت کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے نمک کی زیادہ مقدار ہمارے دماغ کے تناؤ سے نمٹنے کے طریقے کو بھی بدل دیتی ہے۔

اگرچہ یہ دونوں مطالعات دماغ پر زیادہ نمک والی خوراک کے اثرات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بناتے ہیں، لیکن محققین خبردار کرتے ہیں کہ ہمیں نتائج کو انسانوں پر لاگو کرنے میں محتاط رہنا چاہیے۔

محققین کے مطابق، جانوروں اور انسانوں کے نمک کو جذب کرنے، استعمال کرنے اور میٹابولائز کرنے کے طریقہ کار میں بڑا فرق ہے۔

لہٰذا چوہوں اور انسانوں کے درمیان موازنے کو احتیاط کے ساتھ سمجھا جانا چاہیے۔

Health Risk

Heart disease

Salt

Behavior

Human Behavior

Comments are closed on this story.