Aaj News

کوئٹہ میں پولیس ٹرک پرخود کش حملہ: 4 جاں بحق، 23 اہلکاروں سمیت 28 زخمی

تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی
اپ ڈیٹ 30 نومبر 2022 06:26pm
<p>تصویر: سرکاری ٹی وی</p>

تصویر: سرکاری ٹی وی

کوئٹہ کے علاقے بلیلی کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ہلاک افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے ، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے، جبکہ 23 پولیس اہلکاروں سمیت 28 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں پولیس ٹرک کو نشانہ بنایا گیا جس میں پولیومہم کیلئے ڈیوٹی پرتعینات اہلکارسوار تھے۔ زخمیوں میں بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

خود کش حملے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف قتل، اقدام قتل، دہشت گردی ایکٹ اور ایکسپلوزو ایکٹ کے دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کے علاوہ جاں بحق ہونے والوں میں خاتون اور بچہ شامل ہیں جو ٹرک کے پیچھے چلنے والی گاڑی میں سوارتھے۔

بدقسمت خاندان گاڑی میں اپنے گھر نواں کلی لاہور کے لئے نکلا تھا، گاڑی میں ظفر اللہ اپنی بیوی زینب، سات سالہ بیٹے اور اپنے دیگر دوبچوں کے ہمراہ موجود تھے، اس اثناء میں بلیلی کے کے قریب خودکش حملے میں بیوی اور بیٹا جاں بحق ہو گئے جبکہ ظفر اور اس کے دوبچے زخمی ہوئے، بچوں میں سے ایک دوران علاج دم توڑ گیا۔

دھماکے کے وقت ان کی گاڑی بھی اسی ٹرک کے ساتھ ساتھ جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق دھماکا خود کش تھا، خودکش حملہ آور وٹز گاڑی میں تھا۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ڈی آئی جی غلام اظفر کے مطابق ٹرک میں سوار اہلکار پولیو ڈیوٹی کے لیے جارہے تھے، جبکہ پولیو ٹیم کی گاڑیاں ابھی یہاں سے گزرنی تھیں۔

دھماکے کے بعد ٹرک میں آگ بھڑک اٹھی۔اہلکاروں کے علاوہ دیگرزخمیوں میں شہری شامل ہیں۔ دھماکے کی زد میں آ کر قریب سے گزرنے والی دوسری گاڑیوں کوبھی نقصان پہنچا اور دھماکے کے فوری بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کو الرٹ کردیا گیا۔

ابتدائی تفتیش

ابتدائی تفتیش کے مطابق حملے میں وٹز گاڑی استعمال ہوئی، خودکش حملہ آورنے گاڑی پولیس ٹرک سے ٹکرائی ، اس دوران ایک اور گاڑی بھی زد میں آئی جس میں بیٹھی خاتون اورایک بچہ بھی چل بسے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں 25 کلو سے زائد دھماکا خیزمواد استعمال کیا گیا۔

دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ٹرک کو ہیوی کرین کی مدد سے سی ٹی ڈی تھانہ منتقل کردیا گیا ہے، جہاں واقعے کا مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرکے فرانزک کیلئے بھیج دیے ہیں جس میں خودکش حملہ آور کے اعضاء بھی ہیں۔

نمائندہ آج نیوزکے مطابق کہا جا رہا ہے تمام معلومات اور شواہد جمع کرنے کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لئے بھی کھول دیا جائے گا۔

حملہ آوروں کی جانب سے ایسے جگہ کا انتخاب کیا جہاں11 ہزار کے وی کی ہیوی ٹرانشمیشن بجلی کی تاریں موجود تھیں، حملے میں بجلی کی تاریں متاثر ہونے سے بزیادہ تباہی بھی ہوسکتی تھی۔

سیکیورٹی فورسز اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لئے متبادل سڑک کو کھول دیا ہے۔

صدر مملکت اور وزیراعظم کی بلیلی دھماکے کی مذمت

صدرمملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے بلیلی دھماکے کی مذمت کی ہے، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ صدر نے کہا سماج دشمنوں کو انسداد پولیو مہم میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ بلیلی واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ساتھ ہی اسپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وزرا نے بھی دھماکے کی مذمت کی ہے۔

بلوچستان

quetta

Blast

Comments are closed on this story.

مقبول ترین