Aaj TV News

BR100 4,813 Increased By ▲ 18 (0.38%)
BR30 25,150 Increased By ▲ 189 (0.76%)
KSE100 44,819 Increased By ▲ 112 (0.25%)
KSE30 18,362 Increased By ▲ 86 (0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 800,452 4825
DEATHS 17,187 70
Sindh 278,545 Cases
Punjab 290,788 Cases
Balochistan 21,743 Cases
Islamabad 73,450 Cases
KP 114,077 Cases

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں ہسپتالوں کو آکسیجن کی فراہمی روکنے والوں کو پھانسی دی جائے گی۔

بھارت میں عالمگیر موذی وباء کورونا انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کیسز اور ہزاروں اموات سامنے آرہی ہیں۔ بھارت کے ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں جبکہ لاشیں جلانے کیلئے شمشان گھاٹوں میں جگہ بھی کم پڑ گئی ہے۔

ایسی صورتحال میں نئی دہلی ہائیکورٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ وباء کی لہر نہیں سونامی ہے اور اس صورتحال میں ہسپتالوں کو آکسیجن کی فراہمی روکنے والوں کو پھانسی دی جائے گی۔

دوسری جانب بھارت نے ملک میں خراب صورتحال کے باعث کورونا ویکسین کی برآمد پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں کورونا روزانہ لاکھوں کی تعداد میں نئے کیسز سامنے آنے کے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں اور تعلیمی اداروں میں بھی اس موذی وباء نے تباہی مچا رکھی ہے اور صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے 10 پروفیسر اب تک جاں بحق ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں کورونا سے اموات کی اصل تعداد مودی سرکار کی جانب سے ظاہر کردہ تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ برطانوی ماہر ین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مئی کے پہلے ہفتے کے دوران بھارت میں کورونا کیسز کی روزانہ تعداد 5 لاکھ تک اور اموات 5700 تک ہونے کا خدشہ ہے۔

برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا وبا ابھی نقطہ عروج پر نہیں پہنچی، ابھی تو شروعات ہے، آئندہ آنے والے دنوں میں بھارت کو مزید خراب صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔