Aaj News

’سندھ میں کیسا چل رہا ہے؟‘ روڈا کیخلاف بختاور کی ٹویٹ پر مونس الہیٰ کا طنز

راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے خلاف کسانوں کے احتجاج کی وجہ کیا ہے
شائع 09 دسمبر 2022 03:52pm

بختاور بھٹو زرداری کی جانب سے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (روڈا) کے خلاف کسانوں کی حمایت میں آواز اٹھانے پروزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے مونس الہیٰ نے بھی ردعمل میں پوچھ ڈالا، ’سندھ میں کیسا چل رہا ہے؟۔‘

بختاورنے رات کے اندھیرے میں RUDA کی کارروائیوں کی ویڈیو سے متعلق ٹویٹ کو ری ٹویٹ کیا اور عمران خان کو ’پوسٹربوائے‘ قراردیتے ہوئے ہاؤسنگ اسکیم کے لیے غریبوں کی زرعی زمین غیر قانونی طور پر چرانے کا ذمہ دار کہا۔

بختاور کی اس ٹویٹ پرعمران خان کے اتحادی اور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ یہاں کی زیادہ ترزمین ریاست کی ہے جس کی ملکیت میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔

مونس نے لکھا کہ، ’وزیر اعلیٰ اس معاملے خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں تاکہ کسانوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے، یہاں تک کہ غیرمعمولی معاوضہ دیے جانے پربھی غورکیا جارہا ہے‘۔

مونس نے اپنی ٹویٹ میں خفیف طنزکرتے ہوئے بختاور سے یہ بھی پوچھا، ’سندھ میں کیسا چل رہا ہے؟‘۔

پی ٹی آئی کے حامی سمجھے جانے والے اینکرعمران ریاض خان نے بھی کسانوں کے احتجاج کی قیادت کرنے والے سجاد وڑائچ کی گرفتاری کی ویڈیو شیئرکرتے ہوئے ان کےحق میں آواز بلند کی ہے۔ سابق وزیراعظم اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے 2020 میں راوی ریورفرنٹ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔

سجاد وڑائچ راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے زمینوں پرغیر قانونی قبضے کیخلاف مقامی کسانوں کے احتجاج کی قیادت کررہے ہیں۔انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت اپنے خلاف پولیس میں درج کئی شکایت پرسجاد وڑائچ شیخوپورہ کی ایک جیل میں 24 دن تک قید بھی رہے۔

اپنی ٹویٹ میں عمران ریاض خان نے RUDA کو عقل سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی ملاقات کا بتایا۔

عمران ریاض کے مطابق سجاد وڑائچ کی زمین سائفن لاہورکے نیچے کالا خطائی روڈ کے ساتھ ہے، وہ کینیڈا سے فارمنگ کے لیے پاکستان شفٹ ہوئے تھے۔ اور اپنی زمینوں پر کافی محنت کررہے تھے۔

معاملہ کیا ہے

راوی ریورفرنٹ سٹی کی تعمیرکیلئے پنجاب حکومت نے 2020 میں راوی اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ منظورکیاتھا جس سے راوی اربن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی(روڈا) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ قانون روڈا اہلکاروں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت والی زمین سے بے دخل کرکے طاقت کا استعمال کریں۔

راوی ریورفرنٹ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا افتتاح اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اگست 2020 میں کیا تھا، سرکاری دستاویزکے مطابق اس منصوبے کا مقصد دریا کنارے پاکستان کا سب سے بڑا اورپہلا ریورفرنٹ شہر بنانا ہے۔

منصوبےکے مطابق لاہوراور شیخوپورہ کے مضافات میں ایک لاکھ 7 ہزار ایکڑ اراضی پر پھیلے اس شہرمیں 12 سیکٹرہونگے،جن میں میڈیکل سٹی، سپورٹس سٹی، کمرشل سٹی، ڈاون ٹاؤن اورتقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کیلئے بڑی ہاؤسنگ اسکیم شامل ہے۔

شہرکی تعمیرکیلئے زمین کے حصول کی خاطرحکام کسانوں اوررہائشیوں کو انکے گھروں سے بے دخل کرنے کیلئے 1894 کا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ استعمال کیا جارہا ہے۔ درحقیقت یہ قانون صرف عوامی مقاصد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زمین حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ سال اپنی زمینوں سے بےدخلی پرکسانوں نے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیاتھا، عدالت نے جنوری 2022 میں تعمیرات غیرقانونی قراردیتے ہوئے کام روکنے کا حکم دیا تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ منصوبہ ماسٹر پلان یا ماحولیاتی اثرات کے جائزے کے بغیر شروع کیا گیا جس پرمقامی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بغیرعملدرآمد نہیں ہو سکتا۔

اس فیصلے کوروڈا نے سپریم کورٹ میں چلینج کیا تھا، جہاں سے فروری میں اسے اس زمین پرتعمیرات کی اجازت مل گئی جہاں کے مالکان کو رقم ادا کی جاچکی تھی۔

کسانوں کا الزام ہے کہ اگست میں روڈا نے اپنے زیرقبضہ زمین کے علاوہ دیگربھی ہتھیانا شروع کردی اورمالکان کو ان کی زرعی زمینوں سےہٹانے کیلئے پولیس اہلکار بھی لے آئے جس پرانہوں نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا۔ اکتوبرمیں لاہورہائیکورٹ نے قراردیا کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ ایکٹ 2020 جنوری میں کالعدم قراردیا گیا تھا.

پنجاب حکومت نے کسی بھی قسم کی تبدیلی کے بغیر یہ قانون 14 ستمبرکو دوبارہ منظورکردیا۔

Comments are closed on this story.