Aaj News

ارشد شریف قتل پر نئی جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد رپورٹ جمع کرائے گی

سپریم کورٹ نے تحقیقات کا طریقہ کار خود طے کرنے کا اختیار دے دیا
اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2022 10:24am
<p>ارشد شریف</p>

ارشد شریف

سپریم کورٹ نےارشد شریف قتل کی تحقیقات کے لئے نئی اسپیشل جے آئی ٹی کو فوری تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے 2 ہفتوں میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ہر دو ہفتے بعد رپورٹ جمع کرائے گی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجربینچ نے جمعرات کو ارشد شریف قتل ازخود نوٹس کی سماعت کی، ڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگرپیش ہوئے ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نئی اسپیشل جے آئی ٹی قائم کرنے کا نوٹیفیکیشن پیش کرتے ہوئے بتایاکہ نئی جے آئی ٹی5ارکان پر مشتمل ہے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزارت خارجہ نے رپورٹ میں اچھی تجاویزدی ہیں اورجے آئی ٹی کوراستہ بھی دکھایا ہے ۔

ایڈیشل اٹارنی جنرل نےارشد شریف قتل میں ملزمان کی گرفتاری کے لئےانٹرپول سےبھی رابطے کا بھی بتایا اورکہا کہ جے آئی ٹی ارشد شریف کی والدہ سمیت دیگرکے بیانات قلمبند کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کوکوئی رکاوٹ آئے توعدالت سے رجوع کرسکتی ہے، جے آئی ٹی کوفنڈزسمیت کسی بھی چیزکی ضرورت پڑی توحکومت کوکہیں گے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے مقدمے میں نامزد ملزمان کوطلب کیاہے؟ جےآئی ٹی کاپہلا کام ملزمان کی طلبی ہی ہوگا، کتنے عرصے میں تفتیش مکمل کی جائے گی؟۔

جسٹس محمد علی مظہر کے استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ جے آئی ٹی ہرممکن کام جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے گی تاہم تفتیش کینیا پولیس کے تعاون کے رحم وکرم پرہوگی ۔

جسٹس مظاہرنقوی نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے ملزمان خود پیش ہوجائیں، اگرپیش نہ ہوں توقانونی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ارشد شریف قتل کی تحقیقات فوری شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے 2 ہفتے بعد پیشرفت رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے کہا کہ تحقیقات کا طریقہ کارجے آئی ٹی خود طے کرے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کسی دباؤمیں آئے بغیرتفتیش کرے اور کسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑےتوفوری درخواست دے،امید ہے2ہفتوں میں جےآئی ٹی کیس میں پیشرفت کرے گی۔

عدالت نے کہاکہ ایس ایس پی اسلام آباد اوران کی اسپیشل ٹیم جے آئی ٹی کی معاونت کریں گے ،وزارت خارجہ نے قانونی معاونت اور ملزمان کی حوالگی کی تجاویز دی ہیں، پیش رفت رپورٹس پر کھلی عدالت میں بھی سماعت ہوگی، اسپیشل جے آئی ٹی اپنی عبوری پیشرفت رپورٹس ججز کو جائزے کے لئے چیمبرز میں پیش کرے۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جنوری کےپہلےہفتے تک ملتوی کردی۔

5 ارکان پر مشتمل اسپیشل جے آئی ٹی تشکیل

وفاقی حکومت نے ارشد شریف قتل کیس میں نئی اسپیشل جے آئی ٹی تشکیل دے دی، جس کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا ہے۔

نئی اسپیشل جے آئی ٹی میں اسلام آباد پولیس، آئی ایس آئی، آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے شامل کیے گئے ہیں۔

اسپیشل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں آئی بی سے ڈی آئی جی ساجد کیانی، ایف آئی اے سے وقار الدین سید، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر سے اویس احمد، ایم آئی سے مرتضیٰ افضال اور آئی ایس آئی سے محمد اسلم شامل ہیں، مذکورہ تمام افسران گریڈ 20 کے ہیں۔

Supreme Court

اسلام آباد

JIT

justice umer ata bandiyal

somoto case

arshad sharif murder case

Comments are closed on this story.

مقبول ترین