Aaj News

نوعمر افغان لڑکیاں والدین پر ’بوجھ‘ بن گئیں

طالبان نے اسکول نہ کھولے، 'فارغ بیٹھی' بچیوں کو والدین بیاہنے لگے
شائع 11 نومبر 2022 05:18pm
<p>سولہ برس کی سمعیہ کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اب وہ برتن مانجتی ہیں۔ تصویر اے ایف پی</p>

سولہ برس کی سمعیہ کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اب وہ برتن مانجتی ہیں۔ تصویر اے ایف پی

حالات کچھ اور ہوتے تو قندھار میں 13برس کی زینب ان دنوں اسکول کے لیے سردیوں کا یونیفارم خرید رہی ہوتی لیکن اس مرتبہ وہ بازار گئی تو اسے دلہن کا لباس خریدنا پڑا۔

طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول بند ہیں اور والدین نے نوعمر لڑکیوں کو بیاہنا شروع کردیا ہے۔ زینب کہتی ہے، ”میں بہت روئی اور ابا سے کہا کہ طالبان اسکول کھول دیں گے۔ لیکن انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہونے والا اور گھر میں فارغ بٹھانے سے بہتر ہے کہ میری شادی کر دی جائے۔“

زینب کے لیے جیسے ہی رشتہ آیا چند گھنٹوں کے اندر اندر اس کی شادی طے ہوگئی۔ شادی کے موقع پر لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی والوں کو کچھ دینا صدیوں پرانی روایت ہے۔ زینب کا دلہا چند بھیڑیں، بکریاں اور چاول کی چار بوریاں لے کر آیا۔

نکاح کے بعد زینب اپنے سے 17 برس بڑے دلہا کے ساتھ رخصت ہوگئی۔ ”کسی نے مجھ سے پوچھا تک نہیں،“ وہ کہتی ہے۔

افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پرائمری کے بعد لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی ہے۔

خراب معاشی حالات اور پدرانہ اقدار کے سبب والدین نے نوعمر لڑکیوں کی شادی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اسکول بند ہونے کے بعد یہ لڑکیاں اب گھروں تک محدود ہو چکی ہیں اور ’فارغ بیٹھی‘ ہیں۔

 اے ایف پی نے کئی افغان لڑکیوں سے گفتگو کی۔
اے ایف پی نے کئی افغان لڑکیوں سے گفتگو کی۔

زینب نے قندھار میں اے ایف پی نمائندہ کو بتایا کہ والدین کے گھر میں وہ دیر سے اٹھتی تھی۔ ”یہاں ہرکوئی مجھے جھاڑتا رہتاہے۔“

”وہ کہتے ہیں ؛ہم نے اتنا پیسہ خرچ کیا اور تمہیں کچھ کام ہی نہیں آتا’“

’میں اب برتن مانجتی ہوں‘

اے ایف پی کے صحافیوں نے کئی افغان لڑکیوں سے بات چیت کی جن کی حالیہ مہینوں میں یا تو شادی ہو گئی ہے یا منگی طے پائی ہے۔

ان لڑکیوں کے اصل نام شائع نہیں کیے جا رہے۔

سولہ برس کی مریم کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے تعلیم چھوڑ کر ہاؤس وائف بننا پڑے گا۔ ”میرے والدین نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے لیکن ان حالات میں میری ماں بھی میری شادی کی مخالفت نہیں کر سکی۔“

مریم نے گاؤں کے تعلیم میں چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی جس کے بعد اس کے والد اپنے اہلخانہ کو لے کر کابل کے قریب چری کار کے علاقے میں منتقل ہوگئے تاکہ ان کے بچے مزید تعلیم حاصل کر سکیں۔

مریم کہتی ہے کہ اب پڑھنے کے بجائے وہ برتن مانجتی ہے، کپڑے دھوتی ہے اور فرش پر پوجا لگاتی ہے۔

مریم کے والد 45 سالہ عبدالقدیر کا پہلے یہ ارادہ تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو کالج یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے دیں گے۔

سرکاری ملازمت کرنے والے عبدالقدیر کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بچیوں کی تعلیم پر خاصی رقم خرچ کی تھی۔

طالبان حکومت آنے کے بعد عبدالقدیر کی تنخواہ آدھی ہوگئی ہے اور خرچ چلانے کے لیے انہیں گھر کاسامان بیچنا پڑتا ہے۔

مریم کے والد اپنی بچیوں کو تعلیم دلانا چاہتے تھے وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں لڑکیوں کے لیے زیادہ مواقع نہیں اور ایک خاص عمر کے بعد رشتے آنا بند ہو جاتے ہیں۔

عبدالقدیر کے مطابق ماضی کے تجربات کی بنا پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ طالبان لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔

’خاندان پر بوجھ‘

افغانستان میں لوگوں کے حالات کافی ابتر ہیں۔ غیرملکی امداد بند ہو چکی ہے۔ بعض لڑکیاں اپنی والدین کی مدد کرنے کی نیت سے بھی شادیاں کر رہی ہیں۔

کابل میں پندرہ برس کی سمعیہ نے کہاکہ اس کے والد نے شادی کے لیے دباؤ نہیں دالا لیکن حالات ایسے تھے کہ اس نے رشتہ قبول کرلیا اور منگی کرلی۔

دو بہنوں 19 برس کی فاطمہ اور 20 برس کی سارہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے کچھ ہی مہینے دور تھیں جب اسکول بند ہوئے۔ معاشی حالات خراب ہوئے، ان کے والد کا کووڈ سے انتقال ہوگیا اور انہیں شادی کے بارے میں سوچنا پڑا۔

فاطمہ نے کہا،“ میرا ضمیر کہتا ہے کہ خاندان پر بوجھ بننے سے بہتر ہے میں شادی کرلوں۔“

Comments are closed on this story.