Aaj News

جنہیں قریب سمجھتا تھا وہ امتحان کے وقت بدل گئے، عمران خان

میں نہیں کہتا کہ یہ سازش کا حصہ تھے لیکن میں کہیں نہیں گیا، میٹنگ پی ایم ہاؤس میں ہوئی
اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2022 09:08am
<p>فوٹو — اسکرین گریب/ سوشل میڈیا</p>

فوٹو — اسکرین گریب/ سوشل میڈیا

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے بند کمرے میں کیا ڈیل کرنی تھی، میں کہیں نہیں گیا بلکہ میٹنگ وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارا احتجاج پُر امن ہوگا،آئین و قانون نہیں توڑیں گے، عدالت نے جو لائنز دیں ان پر رہیں گے، زندگی میں بڑے بڑےلوگوں کو بدلتے دیکھا ہے اور جن کو قریب سمجھتا تھا وہ امتحان کے وقت بدل گئے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج آئین کے مطابق حکومت کا ادارہ ہے، میں نے بہت کوشش کی کسی بات سے ملک کو نقصان نہ ہو، اسٹیبلشمنٹ پر کوئی بھی بات کروں تو فوج کو نقصان ہوگا اسی لئے میں چاہتا ہوں ہماری فوج کا امیج خراب نہ ہو کیونکہ اگر فوج طاقتور نہیں ہوگی تو ملک آزاد کیسے ہوگا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہمیشہ کوشش کی تعمیری تنقید کروں تاکہ اسٹیبلشمنٹ کا فائدہ ہو، میں ان سے کہا تھا سازش کامیاب ہوئی تو ملکی معیشت کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 5 مہینے پہلےکہا تھا پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، میں نے بند کمرے میں ان سے کیا ڈیل کرنی تھی اور یہ مجھے کیا دے سکتے تھے؟ میں نہیں کہتا کہ یہ سازش کا حصہ تھے لیکن میں کہیں نہیں گیا، میٹنگ پی ایم ہاؤس میں ہوئی تھی۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ عابد شیر علی کا باپ کہتا ہے رانا ثناء اللہ نے 18 قتل کئے، شہباز شریف اور اس کے بیٹے کو سزا ہونے لگی تو وہ وزیراعظم بن گیا جب کہ اسحاق ڈار بیان حلفی دے کر جاتا ہے میں شریف فیملی کامنی لانڈرر تھا۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف نے شیریں مزاری کو میسج کیا میری جان کو خطرہ ہے، ارشد کی والدہ سے پوچھ لو اس کی جان کو کس سےخطرہ تھا اسی لئے ارشد شریف کو میں نے باہر جانے کا مشورہ دیا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ سب کو پتا ہے ارشد شریف کا منہ بند کرانے کی کوشش کیوں کی گئی اور اس لہ ٹویٹ کس کے خلاف تھیں۔

pti

DG ISPR

imran khan

DG ISI

social media

PTI long march 2022

Comments are closed on this story.