Aaj News

عمران خان جنرل فیض کو آرمی چیف نہیں لگانا چاہتے تھے: شیخ رشید

سابق وزیر داخلہ کے دعوے پر سوالات بھی اٹھنے لگے
اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2022 01:39pm
<p>شیخ رشید احمد۔۔۔۔ فائل فوٹو</p>

شیخ رشید احمد۔۔۔۔ فائل فوٹو

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان جنرل فیض حمید کو آرمی چیف نہیں لگانا چاہتےتھے۔

شیخ رشید احمد کی گفتگو کے دو الگ الگ آڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ جب کہ سوشل میڈیا صارفین شیخ رشید کے دعوے پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔

ان میں سے ایک کلپ شیخ رشید کے ڈان نیوز ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کا ہے۔

ڈان نیوز کے رپورٹر عبداللہ مہمند نے یہ کلپ شیئر کیا جس میں شیخ رشید سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا یہ تاثر درست ہے کہ عمران خان جنرل فیض حمید کو آرمی چیف لگانا چاہتے تھے اور اس کے بعد چین جیسا ایک پارٹی نظام قائم کرنے کے خواہش مند تھے۔

شیخ رشید کہتے ہیں، ”بالکل نہیں۔ بالکل نہیں۔۔۔۔ میں آن اوتھ کہنے کے لیے تیار ہوں۔ کہ یہ اس (عمران خان) کا خیال نہیں تھا۔ نہ اس کو (جنرل فیض حمید) لگانا چاہتا تھا۔“

رپورٹر نے کہا، ”کس کو؟“

”فیض کو۔“

”عمران خان نہیں لگانا چاہتے تھے؟“

شیخ رشید احمد مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہیں۔

”تو پھر وہ کس کو لگانا چاہتے تھے؟“

شیخ رشید کہتے ہیں ”وہ اب اس ۔۔۔ میں نہیں۔“

یہی گفتگو ایک اور کلپ میں موجود ہے۔ جو بظاہر اسی انٹرویو کے دوران کسی اور شخص نے اپنے کیمرے یا موبائل فون سے لیا ہے۔

اس کلپ میں شیخ رشید کی آواز زیادہ واضح ہے اور کلپ میں آخری سوال کے جواب میں وہ صاف کہتے سنے جا سکتے ہیں، ”وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے۔“

شیخ رشید کا اشارہ بظاہر کور کمانڈر بلوچستان جنرل سرفراز احمد کی جانب تھا جو ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوگئے تھے۔

شیخ رشید کا یہ دوسرا کلپ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے وائرل کیا جا رہا ہے اور اس میں جنرل سرفراز کی تصویر بھی شامل ہے۔

تاہم شیخ رشید احمد کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کے اظہار کیے جا رہے ہیں۔

اول یہ کہ جنرل سرفراز سینارٹی میں 17ویں نمبر پر تھے اور ان کی تعیناتی کی صورت میں بڑی تعداد میں جنرل سپر سیڈ ہو جاتے۔ایسا عام طور پر نہیں ہوتا۔ دوم یہ کہ جنرل سرفراز کی شہادت کے وقف سوشل میڈیا پرشہدا کے خلاف ایک منفی مہم چلائی گئی تھی جس کا الزام پی ٹی آئی کے حامیوں پر آیا تھا۔

pti

Sheikh Rasheed

COAS

imran khan

Comments are closed on this story.

مقبول ترین