Aaj News

لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا، وزیراعظم

اگر رب نے چاہا تو کوئی بندہ لاپتہ نہیں رہے گا، شہباز شریف کی یقین دہانی
اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2022 09:36pm
<p>حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرے، شہباز شریف
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرے، شہباز شریف فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ لاپتہ افراد کا معاملہ 20 برس سے چل رہا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرے، لاپتہ افراد کیسز کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ذمہ داری ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کراؤں، سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کیے اور متاثرین سے ملاقاتیں کیں، میری بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان کی بات سنوں اور حل کرنے کی کوشش کروں، میں نہیں چاہتا کہ بلاوجہ معذرت کے بات گھماؤں۔

شہباز شریف نے کو بتایا کہ لاپتہ افراد کا یہ معاملہ تقریباً 20 سالوں سے چل رہا ہے، میں اس چھوٹے بچے سے ملا، بچہ کہتا رہا کہ وزیراعظم میرے ابو کو مجھ سے ملوائیں، اس بچے کا سوال ہی بہت افسردہ ہے، میری ذمہ داری ہے کہ اس بچے کے والد کو ڈھونڈوں اور جہاں تک ممکن ہوا کوشش کروں گا، میں اس عدالت اور پاکستان کے عوام کو جوابدہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 4 سالوں میں 2 مرتبہ جیل گیا، میں وزیراعلیٰ پنجاب رہا، بہت سادہ انسان ہوں، میں سمجھ سکتا ہوں جہاں سے یہ متاثرہ خاندان آئے ہیں، لاپتہ افراد کا دکھ درد اور تکلیف سمجھ سکتا ہوں ۔

شہباز شریف نے اسلام آبادہائیکورٹ کو یقین دلایاکہ اس معاملے کو خود دیکھوں گا، اگر رب نے چاہا تو کوئی بندہ لاپتہ نہیں رہے گا، ان کی اس بچے سے بھی ملاقات ہوئی جو اپنے والد کو ڈھونڈ رہا ہے۔

انہوں نے لاپتہ افراد کمیٹی تشکیل سے متعلق بتایاکہ کابینہ کی خصوصی کمیٹی بنادی گئی ہے جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی، کمیٹی کی رپورٹ کوئی کہانی نہیں بلکہ حقائق پرمبنی ہوگی، میں اس قسم کے احمقانہ کام کو برداشت نہیں کرسکتا، لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی نگرانی کروں گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ جب ایک ڈکٹیٹر آیا تو میں اور میرا بھائی بھی متاثرہ تھے، ہم نے ابھی بلوچ طلبہ کا معاملہ اٹھایا ہے، بطور وزیراعلیٰ ہر زبان بولنے والے کو پنجاب میں داخلے دیے، ہر زبان کے طلبہ کو دانش اسکولز میں فری داخلے دلوائے، بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی سارے پاکستانی ہیں۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نےعدالت کو بتایا کہ حکومت لاپتہ افراد کے معاملے میں سنجیدہ ہے، عدالت وقت دے مسئلہ حل کرکے دکھائیں گے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے کہا کہ مستقل حل سیاسی طور پر مذاکرات سے نکلے گا۔

عدالت کی اجازت کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ سےروانہ ہوگئے۔

وزیراعظم نے عدالت میں مدثر نارو کے بیٹے سے بھی ملاقات کی،آمنہ مسعودجنجوعہ بھی عدالت میں موجود تھیں، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ بھی کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں موجود رہے۔

پاکستان

missing person case

Islamabad High Court

Chief Justice Athar Minallah

PM Shehbaz Sharif

Comments are closed on this story.

مقبول ترین