Aaj News

عدلیہ مخالف بیانات: فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔
شائع 06 ستمبر 2022 12:35pm
<p>سیاسی بیانات سے فیصلوں پر تنقید سے توہین عدالت نہیں ہوتی، عدالت
فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

سیاسی بیانات سے فیصلوں پر تنقید سے توہین عدالت نہیں ہوتی، عدالت فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدلیہ مخالف بیانات پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔

اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس بابرستارنے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پرسماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل سلیم اللہ خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ درخواست کے ساتھ فواد چوہدری کے بیانات کا ٹرانسکرپٹ منسلک ہے پڑھنا چاہوں گا۔ فواد چوہدری نے ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کیخلاف توہین آمیز بیان دیا۔

فواد چوہدری نے کہا عمران خان کوتوہین عدالت میں سزا ممکن نہیں کیونکہ وہ ایک مشہور لیڈر ہیں ۔

وکیل نے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ فواد چودھری کے بیانات صرف کسی جج کے حوالے سے نہیں بلکہ چیف جسٹس سمیت تمام عدلیہ کے خلاف بیانات دیے گئے۔ فواد چوہدری کیخلاف توہین آمیز بیانات کی وجہ سے توہین عدالت کی کارروائی کی جاے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کس قسم کی توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے؟ جس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فواد چوہدری کیخلاف کریمنل توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

جسٹس بابرستارنے ریمارکس دیے کہ2 قسم کے بیانات ہیں، جن پر توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے، سیاسی بیانات سے فیصلوں پر تنقید سے توہین عدالت نہیں ہوتی، اگر ہم اس قسم کے بیانات پر توہین عدالت کی کارروائیاں کریں گے تو ہمارے پاس کوئی اور کام نہیں رہے گا، سارا دن یہی کام کرتے رہیں گے۔

عدالت نے کہا کہ جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں پہلے سے وہ کیس لارجر بینچ کے سامنے زیر سماعت ہے۔

بعدازاں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کردی۔

پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں پر سابق ڈپٹی اسپیکر کا آرڈر غیر آئینی قرار

دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نےپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ارکان اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کیخلاف سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا آرڈرغیرآئینی قراردے دیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کیخلاف کیس کی سماعت کی ۔

وکیل فیصل چوہدری نے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کے تحت 123 پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کی استدعا کی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ یہ عدالت ظفرعلی شاہ کیس میں تفصیلی فیصلہ دے چکی ہے، ڈپٹی اسپیکرنے استعفے منظورکرتے وقت طریقہ کارپرعمل نہیں کیا، استعفی دینے والے ہر ممبرکو ذاتی طور پر اسپیکر کے پاس جانا چاہیے تھا، کیا اسپیکر نے استعفی دینے والے ممبران اسمبلی کو بلا کراپنا اطمینان کیا تھا؟ یہ عدالت اب بھی سابق ڈپٹی اسپیکر کو بصد احترام مخاطب کررہی ہے، جنہوں نے عدالتی فیصلے کیخلاف ممبران کے استعفے منظورکیے ۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کیسے فرض کرسکتی ہے کہ لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی جا رہی؟ ڈپٹی اسپیکرنے طریقہ کارپرعمل نہیں کیا اوران کے پاس استعفوں منظوری کا اختیارنہیں تھا، اداروں پراعتماد کریں،ورنہ توسب کہیں گے کہ جج صاحب بات نہیں سنتے تو میں فیصلہ نہیں مانوں گا، مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا استعفے منظورہونے اورالیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن تک اراکین کو اپنے حلقوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں کرنی چاہیئے تھی؟ عدالت پارلیمان کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

عدالت نے قاسم سوری کا آرڈرغیرآئینی قراردیتے ہوئے پی ٹی آئی وکیل کی لارجربینچ تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔

pti

پاکستان

Islamabad High Court

Fawad Chaudhary

Chief Justice Athar Minallah

Comments are closed on this story.

مقبول ترین