Aaj News

وزٹ ویزہ پرمتحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی ملک بدری

پاکستان کے 20 شہروں سے جاری کردہ پاسپورٹس پر ویزے جاری نہیں کیے جا رہے
اپ ڈیٹ 25 اگست 2022 01:33pm
<p>پاکستان کے 20 شہروں سے جاری کردہ پاسپورٹس پر ویزے جاری نہیں کیے جا رہے، تصویر فائل</p>

پاکستان کے 20 شہروں سے جاری کردہ پاسپورٹس پر ویزے جاری نہیں کیے جا رہے، تصویر فائل

متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً ایک ہزار پاکستانیوں کو وزٹ ویزے پر ملازمتیں حاصل کرنے کی کوشش کرنے پرڈی پورٹ کیا ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن (پی او ای پی اے) کے چیئرمین نے وفاقی وزیر برائے سمندرپارپاکستانیوں ساجد حسین طوری کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت وزٹ ویزا پرملازمت کے لیے امارات میں موجود پاکستانیوں کو ملک بدرکررہی ہے۔

خط کے متن کے مطابق، “متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کی جانب سے اپنے وزٹ ویزا کےغلط استعمال کے بعد پاکستان کے لیے امیگریشن پالیسی سخت کردی ہے۔ اب پاکستان کے 20 شہروں سے جاری کردہ پاسپورٹس پر ویزے جاری نہیں کیے جا رہے ہیں” ۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اب پاکستانیوں کو وزٹ ویزا جاری کرنے کے لیے 6 ماہ کے بینک اسٹیٹمنٹ کی فراہمی اور پانچ ہزار درہم کی شرائط عائد کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی ایجنٹ لاکھوں روپے کےعوض معصوم لوگوں کو وزٹ ویزا پرمتحدہ عرب امارات بھیج رہے ہیں، حکومت پاکستان کو جعلی ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

پاکستان اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹرزایسوسی ایشن (پی او ای پی اے) کے چیئرمین نے مزید کہا کہ وزٹ ویزا پرمتحدہ عرب امارات آنے والے لوگوں کو دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ملازمتیں نہیں ملتیں اور وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، جبکہ دھوکہ دہی کرنے والے ایجنٹوں کی وجہ سے پروفیشنل پروموٹرز کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن نے کیا بتایا؟

پاکستان اوورسیزایمپلائمنٹ پروموٹرزایسوسی ایشن (پی او ای پی اے) کے سیکرٹری شہباززیب خان نے آج نیوزکو بتایا کہ اس سے غیر ہنرمند، کم ہنر مند اور نیم ہن مند کارکن متاثرہورہے ہیں، ادارہ اس حوالے سے لوگوں کو قواعد سمجھانے اورقانونی طور پردرخواست دینے میں مدد کرنے کے لیے جلدایک ویڈیو جاری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ایجنٹ لوگوں کو وزٹ ویزہ پرپاکستان سے بھیج رہے ہیں لیکن جب انہیں وہاں نوکریاں نہیں ملتی تو وہ واپس نہیں جاتے اور بالآخر انہیں ملک بدرکردیا جاتا ہے، متحدہ عرب امارات کے حکام شناختی کارڈ پر ان کا پتہ دیکھتے ہیں اورپھر ان کے شہریاعلاقے کو بلیک لسٹ میں شامل کردیتےہیں۔

شہباززیب خان کے مطابق، “ یہ سمجھ میں آتا ہے کہ عالمی وبا کے بعد سے لوگ نوکریوں کے لیےحصول کے لیے بہت زیادہ بے چین ہیں لیکن وہ آسان راستہ اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ باضابطہ طریقہ کار پر ایک ورکر کو تقریباً 150,000 روپے لاگت آتی ہے جس کے بعد اسے تقریباً ایک ہزار درہم کی نوکری ملے گی۔

اس فیس میں کمپنی کے خط کی بنیاد پر ہوائی جہاز کے ٹکٹ اور ایمپلائمنٹ ویزا کی ادائیگی شامل ہے۔ جبکہ 1500 یا اس سے زائد درہم کی تنخواہ والی نوکری کے لیے یہ خرچ تقریباً 200,000 روپے ہے۔

پاکستان

UAE

visa

Comments are closed on this story.