Aaj News

بیرون ملک پاکستانی کوئی بھی کنزیومر گُڈ پاکستان لاسکتے ہیں: نوید قمر

وفاقی وزیر دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ملکی پاسپورٹ ہولڈر یا دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی کو ووٹ دینے کا حق آئین دیتا ہے۔
شائع 27 مئ 2022 10:33pm
<p>ہمارے ہاں آئین و قانون کے عین مطابق کوئی کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو — آج نیوز</p>

ہمارے ہاں آئین و قانون کے عین مطابق کوئی کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ فوٹو — آج نیوز

برلن: وفاقی وزیر برائے تجارتی امور نوید قمر کا کہنا ہے کہ حکومت نے غیر ملکی اشیا پر دو ماہ کیلئے پابندی عائد کی ہے البتہ اوورسیز پاکستانی بیرون ملک سے کوئی کنزیومر گُڈ پاکستان میں لا سکتے ہیں۔

دورہ جرمنی میں وفاقی وزیر نے جرمن وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر ٹوبیاس لنڈر سے جرمن دفتر خارجہ میں ملاقات کے بعد یورپی ملک میں موجود پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پابندی صرف دو ماہ کے لئے مہنگے آئٹمز پر لگائی گئی ہے البتہ سمندر پار پاکستانی اپنے دوست احباب رشتے داروں کے کے خواہ جو بھی تحفے تحائف لانا چاہیں لاسکتے ہیں جس پر کوئی پابندی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پورا سلسلہ جی ایس پی پلس سے منسلک ہے، جو چیزیں پاکستان سے یہاں آتی ہیں ان پر لگنے والی ڈیوٹی ہمیں کم نرخوں میں ملتی ہے جس کی بدولت یہاں ہماری درآمدات بڑھتی ہیں۔ اگلے برس یہ سلسلہ اختتام پزیر ہوجائے گا جس کے بعد ہم مزید ایک نئے سلسلے کا آغاز کریں گے۔

ملک میں سرمایہ کاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان ان کی توجہ کا مرکز اس وقت بنتا ہے جب وہاں کچھ منفی سرگرمیاں و واقعات رونما ہوتے ہیں تاہم وہاں جو کچھ ہوا وہ آئیں کے مطابق ہوا البتہ ہمارے ہاں آئین و قانون کے عین مطابق کوئی کام کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے حوالے سے حالیہ منظور شدہ بل سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ووٹ لینے کا حق ہرگز نہیں چھین رہا، دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود ملکی پاسپورٹ ہولڈر یا دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی کو ووٹ دینے کا حق آئین دیتا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے تجارتی امورنوید قمر اس وقت دورہ یورپ پر ہیں جہاں وہ مٹتلف یورپی ممالک بشمول بیلجیئم، ہالینڈ اور فرانس سے ہوتے ہوئے ابھی جرمنی میں موجود ہیں جو کہ کل برطانیہ کے لئے روانہ ہوں گے۔

overseas Pakistanis

Federal Minister

Europe

Comments are closed on this story.

مقبول ترین