Aaj.tv Logo

عمران خان جہاں پاکستانی سیاست میں کئی اچھے برے حوالوں سے یاد رکھے جائیں گے وہیں ان کے غیر متوقع سیاسی فیصلے بھی سیاسی حلقہ جات میں برسوں بطور حوالہ زیر بحث رہیں گے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان نے کئی ایسے فیصلے لیے جن پر ان کی اپنی حکومت میں بااثر طبقات انگشت بدنداں رہ گئے۔

یہ فیصلے ان کی سیاسی بقا کے لیے کتنے مفید یا مہلک ثابت ہوئے، ایک الگ بحث ہے۔ خان کے فیصلوں میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والا فیصلہ عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نامزدگی تھی۔

 شہباز شروف فوٹو ـــ ٹوئٹر
شہباز شروف فوٹو ـــ ٹوئٹر

ان تمام غیر متوقع فیصلوں کے پیچھے بے شمار وجوہات تھیں جن میں ذاتی انا، دوسروں کے وجود کی حقیقت سے انکار اور سیاسی نشیب و فراز کی معاملہ فہمی کا فقدان سرفہرست رہا۔

عدم اعتماد کی تحریک جمہوری حکومتوں کا گہنا ہوتی ہے بس شرط یہ ہے کہ اسے برتنے کا ہنر آنا چاہیے۔ پاکستان میں عدم اعتماد تحریک کی کامیابی میں اپوزیشن اتحاد میں شامل ہر سیاسی جماعت نے اپنے تئیں بھرپور کردار ادا کیا۔

سب جانتے ہیں کہ محبتوں کے اس کاروبار میں ایک زرداری سب پہ بھاری ہوتا ہے، سابق صدر آصف زرداری کی خاموش ڈپلومیسی نے اس تحریک کی کامیابی کے لیے ایک ناقابل فراموش حصہ ڈالا، لالچی حکومتی اتحادیوں کو ایک لڑی میں پروئے رکھنا آسان نہیں تھا۔

شہباز شریف اور حضرت مولانا کے لیے یہ خود کو گرو ثابت کرنے کا پہلا اور آخری موقع تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے اور تاریخ رقم ہوئی۔

شریف خاندان کے ادوار اقتدار ملک میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لحاظ سے خاص طور پر یاد رکھے جاتے ہیں، اس خاندان پر بدعنوانی کے سائے کی نحوست اپنی جگہ، ملک کی درجن بھر موٹرویز میں سے آدھی سے زائد ان کے ہاتھوں بنی۔

شہاز شریف اپنی ترقیاتی برق رفتاری کے باعث چین میں خاص طور پر مانے جاتے ہیں، عدم اعتماد کی کامیابی کے سب سے زیادہ ثمرات اس بار بھی شریف خاندان کی جھولی میں گریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت رنگ لائی، ذاتی انتقام مجموعی کامیابی کی صورت میں پورا ہو جائے تو اس سے اچھا کیا۔ متحدہ کا کردار عمران خان کی حکومت بنتے وقت فیصلہ کن رہا۔ ملکی تاریخ کی مضبوط ترین اپوزیشن سب کی مشترکہ کاوشوں سے بالاخر کامیاب ہوئی۔ متحدہ اپوزشن کی مستقل تحمل مزاجی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا ضامن بنی۔   پاکستان میں قائد ایوان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو چکی، خان صاحب اور درباری بنی گالہ سدھارے جا چکے ہیں۔ جانے کا یہ عالم ہوگا کس نے سوچا تھا۔ سپیکر اسد قیصر کی پریشانی انکے چہرے سے جھلکتی رہی۔ اسپیکر کے عدم اعتماد پر ووٹنگ سے انکاری ہو کر مستعفی ہونے کے فیصلے کو اپوزیشن نے بھی سراہا۔ آخری لمحے ایوان ممبر پینل آف دی چیئر اور سابق سپیکر ایاز صادق کے حوالے کرکے چلتے بنے۔

سپیکر قومی اسمبلی کے مستعفی ہونے کے بعد ایاز صادق نے ایوان سنبھالا تو غیر یقینی صورتحال معمول پر آنا شروع ہوئی اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی کارروائی کا عمل پرسکون طریقے سے آگے بڑھا جس میں متحدہ اپوزیشن نے ١٧۴ ووٹوں سے اپنی اکثریت ثابت کر کے عمران خان کو بطور وزیراعظم ایوان سے چلتا کیا۔ منحرف اراکین تحریک انصاف سے ووٹ ڈلوانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ یوں عمران خان کا ساڑھے تین برس کا اقتدار اپنے انجام کو پہنچا۔

پاکستانی سیاست میں ماضی میں ایسی صورتحال شاید ہی کبھی پیدا ہوئی ہو کہ خود کو جمہوری نظام کا داعی اور جمہوریت پسند کہنے والا حکمران خود ہی سارے نظام کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کردے کہ اس مشکل کو آسان کرنے میں کئی دن لگ جائیں۔ اگرچہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں پانچ دن لگ گئے لیکن عدالتی فیصلے سے پارلیمانی جمہوریت، آئین اور قانون کا بول بالا ہوا اور آئینی بحران کی ہیجان انگیز کیفیت میں خاطر خواہ کمی آئی۔

عثمان بزدار ــ فائل فوٹو
عثمان بزدار ــ فائل فوٹو

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے بعد سب کچھ جس ترتیب سے ہوا اسے سوچا سمجھا منصوبہ اور حکمت عملی ہی کہا جا رہا تھا۔ جس کا علم صرف خان صاحب اور ان کے کچھ خاص لوگوں کو ہی تھا، کیونکہ وزرا ء کے بلند و بانگ دعوؤں سے لگ رہا تھا کہ حزبِ اختلاف کے خواب چکنا چور ہونے والے ہیں اور شہباز شریف کے ساتھ جو ہوگا، اسے دیکھ کر وہ پریشان ہوجائیں گے۔ خان صاحب کی کابینہ پر یقین تھا کہ خان صاحب وزیر اعظم ہیں اور وہی وزیر اعظم رہیں گے۔

ملک میں اس درجہ شدید آئینی بحران کا تجربہ بھی اپنی نوعیت کا واحد تجربہ ہے۔ قبل ازیں پاکستان میں دو مرتبہ تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی لیکن دونوں مرتبہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کے خلاف آنے والی تحریک اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس نے جس انداز میں قوم کو مہینہ بھر ہیجان انگیز کیفیت میں مبتلا رکھا وہ پہلی دو عدم اعتماد کی تحریکوں میں نہیں ہوا تھا۔ یوں یہ ملکی تاریخ کی واحد تحریک کہلائی جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

تحریک پاکستان کے بڑے سرخیل سابق وزیراعظم اسماعیل ابراہیم چندریگر کے دور میں پہلی بار ملک میں کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی گونج سنائی دی تھی۔ ناقدین یوں بھی انہیں بطور وزیر اعظم پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ناکام ترین وزرائے اعظم میں شمار کرتے ہیں۔ اکتوبر 1957 میں صدر اسکندر مرزا اور وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کے درمیان اختلافات اس حد تک شدت اختیار کر گئے کہ سہروردی کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور اسکندر مرزا نے چندریگر کو وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری دے دی۔ وہ چند جماعتوں کے اراکین کے گٹھ جوڑ سے بنی مخلوط حکومت کے صرف 55 دن ہی وزیراعظم رہ سکے۔ اُن کے اتحادیوں اور خود صدر اسکندر مرزا کے درمیان اختلافات تحریک عدم اعتماد لانے کے فیصلے پر منتج ہوئے اور چندریگر کو استعفیٰ دینا پڑا۔

اگرچہ اب اس کھیل میں کئی نئے رحجانات اور مسائل درپیش ہوتے ہیں لیکن كسی منتخب سربراہ حكومت (وزیراعظم) كے خلاف  تحریک عدم اعتماد كی كامیابی یا ناكامی كا بیشتر انحصار اب بھی قومی اسمبلی میں حلیف اور حریف اراكین كی تعداد پر منحصر ہوتا ہے، اور موجودہ ایوان میں یہی عددی حیثیت یا نمبرز گیم وزیر اعظم عمران خان كی اقتدار سے علیحدگی کی سب سے اہم وجہ رہی.

*احتشام الحق کو آپ ٹوئٹر پر بھی فالو کر سکتے ہیں *