Aaj.tv Logo

کراچی :جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئےجس کے بعد جماعت اسلامی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

سندھ حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی نے کراچی میں دھرنے ختم کرنے کر اعلان کردیاجبکہ سندھ حکومت بلدیاتی قانون میں ترامیم پر تیار ہوگئی۔

سندھ حکومت کا وفد رات گئے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے دھرنے میں مذاکرات کیلئے پہنچا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آج شاہراؤں پر دیے جانے والے دھرنے کی کال بھی واپس لےلی ہے جبکہ مرکزی دھرنا بھی ختم کردیا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔

حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوتا رہا جبکہ مذاکراتی کمیٹی سے اچھے ماحول میں گفتگو ہوتی رہی، آج ایک مسودہ بنا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے مسودے کے نکات پڑھ کے سنائے۔

ناصر شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان تحریری معاہدہ ہوا ہے ، سندھ حکومت 2013 کے بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم لائے گی، جس کے مطابق صحت سے متعلق جو ادارے لے لئے گئے تھے وہ دوبارہ بلدیاتی اداروں کے سپرد کردیئے جائیں گے جبکہ میئر کراچی واٹر بورڈ اور سیوریج بورڈ کے چیئرمین ہوں گے، صوبائی حکومت یو سی کو ماہانہ اور سالانہ فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔

اس کے علاوہ ناصر شاہ نے مزید بتایا کہ جن معاملات پر نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوں گے ایک سے دو ہفتوں میں ایسا کر دیا جائے گا جبکہ صحت سے متعلق ادارے دوبارہ بلدیاتی اداروں کو دے دئیے جائیں گے۔

تحریری معاہدے کے مطابق تعلیم سے متعلق ادارے بلدیاتی اداروں کے سپرد کر دیئے جائیں گے جبکہ صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سنبھالنے کے بعد دیا جائے گا۔

ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ موٹر وہیکل ٹیکس سے حاصل رقم ان کے حصے کے مطابق ادا کیا جائے گااور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں میئر اور چیرمینز کو اختیارات دئیے جائیں گے جبکہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوں گے۔

اس کے علاوہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کی بھرپور مدد کرے گی۔

واضح رہے کہ سندھ کے بلدیاتی قانون کخلاسف جماعت اسلامی کا 29 روزسے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا جاری تھا۔