Aaj.tv Logo

اسلام آباد: سابق نیول چیف ظفر محمود عباسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے نیوی سیلنگ کلب کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیوی سیلنگ کلب گرانے اورسابق نیول چیف کےخلاف فوجداری کارروائی کا فیصلہ چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

اس سلسلے میں ایڈمرل ریٹائرڈ ظفرمحمود عباسی کی جانب سے ایڈووکیٹ اشتراوصاف عدالت میں پیش ہوئے۔

ایڈووکیٹ اشتراوصاف نے سنگل بینچ کا 7 جنوری کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔

درخواستگذار نے کہا کہ جس درخواست پر فیصلہ سنایا گیا وہ قابل سماعت ہی نہیں تھی۔

اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سابق نیول چیف نے غیرقانونی عمارت کا افتتاح کر کے اپنے حلف کے خلاف ورزری کی ہے۔

جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے ہر چیز سرکار کی ہوتی ہے جس کا استعمال متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کرتا ہے، عدالتوں کی متعلقہ منسٹری وزارت قانون ہے، وہی عدالتوں کے لیے بلڈنگ لیتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آرمڈ فورسز کی متعلقہ منسٹری وزارت دفاع بنتی ہے نیول فارمز کے لیے زمین کس نے خریدی؟ مقصد کیا تھا؟

اشتر اوصاف ایڈووکیٹ نے کہا اس متعلق ریکارڈ دیکھنا پڑے گا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی پوچھ کر بتائیں کہ سیکرٹری کابینہ نے عدالتی حکم پر عمل درآمد کیا ہے یا نہیں؟ اگر عدالتی فیصلہ کابینہ کے سامنے رکھنے کے حکم پر عمل نہیں ہوا تو سیکرٹری کابینہ خود پیش ہوں۔

عدالت نے اپیل کنندہ کے وکیل کو متعلقہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 19 جنوری تک ملتوی کر دی۔