Aaj.tv Logo

وفاقی حکومت نے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی طور پر 3.33 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا جس کا اطلاق 16 جنوری سے ہوگا۔

فنانس ڈویژن نے پیٹرول کی قیمت میں 3.01 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 3 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کے ایکس ڈپو ریٹ میں بھی 3.33 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

ڈویژن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 5.52 روپے فی لیٹر اورہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 6.19 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارشات کے خلاف، وزیراعظم نے بین الاقوامی قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی اضافے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔

پیٹرول کی نئی قیمت 147.83 روپے فی لیٹر ہے جو پہلے پندرہ دن میں 144.82 روپے فی لیٹر تھی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 141.62 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 144.62 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

مٹی کا تیل کا ریٹ 116.48 روپے فی لیٹر ہے جو 113.48 روپے فی لیٹر تھا ساتھ ہی لائٹ ڈیزل آئل بھی 111.21 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 114.54 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات مسلسل چوتھے ہفتہ وار اضافہ دکھا رہی ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں صرف گزشتہ ہفتے میں 6.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فی الحال، گزشتہ سال کے بعد سے بلند ترین سطح پر مختلف پیٹرولیم مصنوعات پر موجودہ سیل ٹیکس کی شرح اور پیٹرولیم لیوی (PL) بجٹ کے اہداف سے بہت کم ہے۔

حکومت نے پہلے ہی رواں مالی سال کے لیے اپنے بجٹ پی ایل کے ہدف کو 610 ارب روپے سے بڑھا کر 330 ارب روپے کر دیا تھا۔

جمعہ کو وزیر توانائی حماد اظہر نے بتایا کہ پی ایل کی مد میں 200 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔