Aaj.tv Logo

اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے کہا ہے کہ ملک کا سنگین مسئلہ قوانین کا نفاذ ہے اور سیالکوٹ جیسے واقعے کی تکرار کو روکنے کیلئے عدالتی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔

سی آئی آئی نے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا قرآن و سنت، شریعت اور آئین کے خلاف ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لے تو ریاست کو اس کے خلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

ڈان اخبار کے مطابق سی آئی آئی نے خصوصی میٹنگ میں کہا کہ سیالکوٹ کے واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جس میں سری لنکا کے فیکٹری مینیجر پریانتھا کمارا کو توہین مذہب کے الزام میں ایک ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور اس کے جسم کو آگ لگا دی۔

اجلاس کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سعید ملک نے سانحہ کے بعد کی گئی کارروائی اور کیس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

سی آئی آئی کے اراکین نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

سی آئی آئی کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سیشن کا مقصد سانحہ کے پس پردہ اسباب اور عوامل کا تعین اور سمجھنا تھا"لیکن ہم سب سمجھتے ہیں کہ نظام میں تمام خامیوں کے باوجود تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو ختم کرنا ریاست کے ساتھ ساتھ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے۔"

اجلاس میں پولیس افسران کے علاوہ نفسیات، سماجیات اور قانون کے ماہرین نے شرکت کی۔

سی آئی آئی کے رکن علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ریاست بہت واضح ہے کہ سیالکوٹ جیسا ایک اور واقعہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن ساتھ ہی ہم سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس بیماری سے چھٹکارا پانے میں وقت لگے گا جس کو پختہ ہونے میں 40 سال لگے ہیں۔"

سی آئی آئی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سیالکوٹ سانحہ میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کو مکمل قانونی عمل کے بعد سزا دی جائے۔

اجلاس میں ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ماہرین سے مشاورت کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ کونسل نے پہلے کہا تھا کہ مسئلہ قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے اور موجودہ قوانین کے تحت ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لیے سزا کو یقینی بنانا نئے قوانین بنانے سے زیادہ اہم ہے۔ نظام اس بات کو یقینی بنائے کہ سانحہ سیالکوٹ یا اس طرح کے دیگر واقعات میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔

ساتھ ہی سی آئی آئی کی رائے تھی کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ بھی سوشل میڈیا پر اسلام اور پاکستان مخالف مواد کی موجودگی اور پھیلاؤ ہے۔ کونسل نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں دیگر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

سی آئی آئی نے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام میں خاطر خواہ اصلاحات کی گنجائش موجود ہے تاکہ ان اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے رجحان کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

کونسل نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ پیغام پاکستان اعلامیہ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

2017 کے متفقہ اعلامیہ میں دہشت گردی، خودکش حملے اور کسی کو قتل کرنا اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ ملک کے تمام مکاتب فکر اور مدرسہ بورڈز نے اس کی تائید کی۔

سی آئی آئی اجلاس نے سری لنکا کی حکومت اور عوام کے اطمینان کیلئے سیالکوٹ واقعے کے بعد صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کی تعریف کی۔

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک عدنان کو سرٹیفیکیٹ آف میرٹ اور میڈل آف کریج دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا، جنہوں نے اپنے سری لنکن ساتھی کو ہجوم سے بچانے کی کوشش کی۔