Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا ہے کہ یہ تاثرہے کہ سندھ کی ماتحت عدلیہ میں کچھ بھرتیاں رشتہ داریوں کی بنیاد پر ہوئیں

سندھ جوڈیشری میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے رجسٹرارسندھ ہائیکورٹ کو سندھ کے تمام اضلاع میں بھرتیوں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

سماعت میں جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا یہ تاثرہے کہ سندھ کی ماتحت عدلیہ میں کچھ بھرتیاں رشتہ داریوں کی بنیاد پر ہوئیں ۔

سپریم کورٹ میں سندھ ہائیکورٹ اورڈسٹرکٹ کورٹس میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ۔

سماعت میں رجسٹرارسندھ ہائیکورٹ عبدالرزاق عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت میں جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کراچی کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں دوسرے اضلاع سے بھرتیاں کیوں کرنا پڑیں؟ کیا ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں ٹائپنگ کیلئے کوئی کراچی میں کوئی نہیں تھا؟

سماعت میں رجسٹرارسندھ ہائیکورٹ نے کہا بھرتیوں کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی اپروول چاہیے ہوتی ہے۔

سماعت میں جسٹس اعجازالاحسن نے کہا عدلیہ میں بھرتیوں کا طریقہ کرشفاف اورمیرٹ پر ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس بھی قانون سے بالاترنہیں ہوتے ہیں ۔ چیف جسٹس کوبھی قوانین کی پیروی کرنا ہوتی ہے۔

درخواست گزارشمس الاسلام نے کہا سندھ کے بعض اضلاع میں سول ججزکی بھرتیوں کے ٹیسٹ کے پیپر لیک ہوئے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ججزکی بھرتیوں کا طریقہ کارشفاف ہے ایسی بات نا کریں۔

بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔