Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئےقومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوادیا جبکہ عدالت نے چیئرمین نیب کو آڈیٹرجنرل رپورٹ کا جائزہ لے کر ابتدائی رپورٹ 3ماہ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تھرکول منصوبہ کرپشن کیس تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوا دیا گیا۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ چیئرمین نیب آڈیٹرجنرل رپورٹ کاجائزہ لےکرابتدائی رپورٹ 3ماہ میں پیش کریں، نیب سرکاری فنڈز کی خردبرد میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرے، تھرکےلوگ بنیادی سہولیات اورپینے کے پانی کوترس رہے ہیں، ٹھٹھہ، منوڑا اورسجاول کے حالات بھی اچھے نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سمیت کسی سرکاری عہدیدارکومعاملے میں دلچسپی نہیں، سارا پیسہ ایک اکاونٹ سےدوسرے میں چلا گیااسی لیے دلچسپی نہیں، آڈیٹرجنرل رپورٹ پرسندھ حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ چئیرمین نیب کو بجھوا دیتے ہیں، چیئرمین نیب رپورٹ کودیکھیں کہ کیا کرپشن اوراختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس بنتا ہے؟۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے فنڈ کا استعمال شفاف اندازمیں نہیں ہوا، نہ آراوپلانٹ ضرورت کےمطابق قائم ہوئےناہی پینےکاصاف پانی دستیاب ہے، واٹرفلٹریشن پلانٹ کیلئےسولرپاورجنریشن پلانٹ بھی قائم نہ ہوسکے۔

عدالت نے مزیدکہا کہ موبائل ایمرجنسی ہیلتھ یونٹ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی، اسپیشل ترقیاتی پیکج کے فنڈ کا بھی غلط استعمال ہوا، سندھ حکومت نے آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پرکوئی ایکشن نہیں لیا، بظاہر ترقیاتی اور فلاحی فنڈز میں خوردبرد اور بے ضابطگیاں ہوئیں،سندھ حکومت کواس سارے معاملے کی کوئی پرواہ نہیں، بظاہرترقیاتی فلاحی منصوبے فعال نہیں ہوئے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 3ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔