Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس پر اپوزیشن کو پھر مشاورت کی دعوت دیدی۔

وزیر قانون کہتے ہیں واضع ہو جائے ن لیگ کیا چاہتی ہے تو وزیراعظم سے بات کروں گا،اپوزیشن اراکین نے آرڈیننس کو این آر او قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا، چھ اکتوبر سے پہلے کیسز کیوں چلتے رہیں گے؟

اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبے کے باوجود بل پر ووٹنگ نہ ہو سکی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے اجلاس میں نیب ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔

اجلاس میں رانا ثناءاللہ نے کہا کہ کابینہ کے اجتماعی فیصلوں کا نیب کے دائرہ سے نکال دیا گیا، پھر کابینہ کے اجتماعی فیصلوں پر کونسا ادارہ ایکشن لے گا۔

اجلاس میں فروغ نسیم نے ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کابینہ کے فیصلہ پر کاروائی کر سکنے کا موقف اپنایا تو رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے اور انٹی کرپشن کا سربراہ حکومت لگاتی ہے، سربراہان کو قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں،نیب کے غیرجانبدار نہ ہونے کی وجہ سے سارا فساد ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں چیئرمین نیب قابو کرنے کیلئے قانون میں ترمیم ہو رہی ہے۔

اجلاس میں محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترامیم نیک نیتی سے نہیں لائی گئی،یہ شوگر کوٹڈ زہر ہے،چیئرمین نیب توسیع جیسی ترامیم کو نکال دیں تو ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

اجلاس میں عالیہ کامران نے آرڈیننس کو موجودہ حکومت کیلئے این آر اوقرار دیتے ہوئے کہا کہ چند افراد کو سہولت صرف تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔

لیگی رہنما سعد رفیق نے کہا کہ آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار مخصوص حالات میں ہوتا ہے، نیب آرڈیننس واپس لیکر حکومت کمیٹی میں آئے تو ملکر قانون سازی کرینگے،ایک شخص اپوزیشن کو دبا کر ملک پر اپنا راج چاہتا ہے، ایسا کرنے والا خود پھنس جائے گا۔

اجلاس میں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اگر آرڈیننس واپس نہیں لیتے تو کیا ن لیگ جن شقوں کو بہتر سمجھتی ہے انہیں بھی مسترد کرے گی؟ کلیئر ہوجائے تو وزیراعظم سے بات کروں گا کہ ن لیگ کیا چاہتی ہے،

اس موقعے پر پی پی رہنما نوید قمر نے کہا کہ اگر مشاورتی عمل شروع نہ ہو تو کیا چیئرمین نیب ہمیشہ کےلئے رہیں گے؟ جس پر فروغ نسیم نے بتایا کہ چیئرمین نیب کو کام جاری رکھنے کی اجازت ادارہ غیر فعال ہونے سے بچانے کےلئے ہے، محسن شاہنواز نے پوچھا کہ چھ اکتوبر سے پہلے والے کیسز کیوں چلتے رہیں گے؟وزیر قانون نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ ہے یہ مجبوری بھی سمجھیں، آپ چاہتے ہیں پاکستان مزید بھی گرے لسٹ میں رہے؟ بامعنی مشاورت کے نقطے پر بات ہو سکتی ہے۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہوکر نیب قانون پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، اجلاس میں نیب بلز پر ووٹنگ کا اپوزیشن کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔

کمیٹی نے ملیر کورٹ میں خاتون پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئےرپورٹ طلب کی ہے۔