Aaj News

"موجودہ صورتحال طویل مدت کےلئے جاری نہیں رہ سکتی"، آئی اے ای اے کا ایران کو انتباہ

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائل...
شائع 03 نومبر 2021 05:46pm

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر رافائل گروسی نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اپنے جوہری ٹھکانوں کے سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج آئی اے ای اے کے حوالے کرنے سے انکار ایک خطرناک تصرف ہے جس کے سنگین بین الاقوامی اثرات ہوں گے۔ یہ صورت حال زیادہ طویل عرصے جاری نہیں رہ سکتی۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز بتایا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے کہا "ہم شدید ابرآلود بادلوں کے بیچ اڑ رہے ہیں.ہم عارضی طور پر اس صورت حال کو جاری رکھ سکتے ہیں مگر طویل مدت کےلئے نہیں"۔

گلاسگو میں موسمیات سےمتعلق اقوام متحدہ کےسربراہ اجلاس کے ضمن میں گروسی کا کہنا تھا "اگر انہوں (ایرانیوں) نے پر امن مقاصد کےلئے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنے کا سنجیدہ ارادہ کیا ہے تو ان پر لازم ہے کہ اس بات کی ضمانت پیش کریں"۔

گروسی کے مطابق جوہری تنصیبات کے گرد سخت سیکیورٹی اقدامات کے نتیجے میں ایجنسی کے معائنہ کاروں کو بعض اوقات مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ براہ راست اور اعلی سطح کی بات چیت کے واسطے جلد تہران کا دورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو یہ ذمے داری سونپی گئی تھی کہ وہ 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی نگرانی کرے۔ یہ سمجھوتا مشترکہ جامع عملہ منصوبے کے نام سے معروف ہے۔ اس کا مقصد ایران پر سے پابندیاں ہٹانے کے عوض تہران کی جوہری سرگرمی پر قدغن لگانا ہے۔

تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں مئی 2018ء میں امریکا نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی اور ایران پر دوبارہ سے کئی پابندیاں عائد کر دیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام بھی معاہدے کے متن میں درج شقوں سے دست بردار ہونا شروع ہو گئے۔

آئی اے ای اے کے معائنہ کار فروری 2021ء سے اب تک ایران کے جوہری ٹھکانوں کے سیکیورٹی کیمروں یا یورینیم کی افزودگی کی برقی نگرانی کی تصاویر حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

مغربی ممالک کو اندیشہ ہے کہ تہران جوہری بم کی تیاری کےلئے مطلوب مہارت اور معلومات حاصل کر رہا ہے.اس کے سبب ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو.

Iran

Nuclear Deal

IAEA

Comments are closed on this story.

مقبول ترین