Aaj News

ٹک ٹاک کے سینئیر حکام کا پی ٹی اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ

ٹک ٹاک کی سربراہ پبلک پالیسی ایمرجنگ مارکیٹس اور ہیڈ آف گلوبل سی...
اپ ڈیٹ 03 نومبر 2021 03:59pm

ٹک ٹاک کی سربراہ پبلک پالیسی ایمرجنگ مارکیٹس اور ہیڈ آف گلوبل سی ایس آر ہیلینا لرش نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پی ٹی اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹیم نے چئیرمین پی ٹی اے کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کی تاکہ مقامی قوانین اور معاشرتی اصولوں کے مطابق مواد کو اعتدال پر رکھنے کے حوالے سے بات چیت کو بامقصد طریقے سے آگے بڑھایا جاسکے۔

ملاقات کے دوران ٹک ٹاک کے سینئر نمائندے نے پاکستانی صارفین کو محفوظ، بامقصد، معلوماتئی اور مستند فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مقامی سطح پر مستقبل کی حکمت عملی یا سرکاری سرمایہ کاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی۔

چئیرمین پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کی نمایاں کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے دونوں فریقین نے باہمی طور پر قابل قبول طریقہ کار پر پہنچنے کیلئے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، تاکہ پاکستان میں صارفین کیلئے محفوظ انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

خیال رہے پاکستان میں ماضی میں کئی بار ٹک ٹاک پر نامناسب مواد شیئر کرنے کے الزام میں پابندی لگائی جاچکی ہے۔

رواں سال مارچ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصررشید خان نے ٹک ٹاک کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ٹک ٹاک پر ڈالی جانے والی ویڈیوز ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔‘

چیف جسٹس قیصررشید خان نے حکم دیا تھا کہ ' ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے، اس کو فوری طورپر بند کیا جائے۔'

تاہم اپریل میں ٹک ٹاک کی جانب سے غیر اخلاقی اور نامناسب مواد ہٹانے کی یقین دہانی پر عدالت عالیہ نے پی ٹی اے کو ایپ پر سے پابندی ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ عالت کے حکم پر پی ٹی اے نے مذکورہ پابندی ہٹا دی تھی۔

بعد ازاں جون کے آخر میں سندھ ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کیے جانے کے حوالے سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایپ پر پاکستان بھر میں پابندی عائد کرنے کا حکم صادر کیا۔

مقامی وکیل بیریسٹر اسد اشفاق نے عدالت عالیہ میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ٹک ٹاک ایپ پر غیراخلاقی اور غیر اسلامی مواد شیئر کیا جارہا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بارہا پی ٹی اے میں شکایات درج کرائی گئی مگر تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

جس پر عدالت نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک اپلیکیشن فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دیا۔

TikTok

PTA

Comments are closed on this story.

مقبول ترین