Aaj News

ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی رہائی میں قانونی پیچیدگی کیا ہے؟

تحریک لبیک (ٹی ایل پی) اور حکومت وقت کے مابین ایک "خفیہ" معاہدہ طے...
شائع 02 نومبر 2021 01:00pm
سعد رضوی کو کسی مقدمے میں نہیں، بلکہ امن وامان میں خلل ڈالنے کے پیش نظر 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا (تصویر: عرب نیوز)
سعد رضوی کو کسی مقدمے میں نہیں، بلکہ امن وامان میں خلل ڈالنے کے پیش نظر 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا (تصویر: عرب نیوز)

تحریک لبیک (ٹی ایل پی) اور حکومت وقت کے مابین ایک "خفیہ" معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد ٹی ایل پی کے کارکنوں نے وزیر آباد میں جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔

البتہ ٹی ایل پی کی جانب سے وزیر آباد سے واپس جانے انکار کر دیا گیا ہے اور ایک خالی گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ ان کارکنوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی تک ادھر ہی رہیں گے۔

تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خفیہ معاہدے میں حکومت نے ٹی ایل پی کو سعد رضوی کو رہا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے؟ اگر ایسا ہے تو حکومت کو اس وقت کس قانونی پیچیدگی کا سامنا ہے؟

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کے مطابق صوبہ بھر میں سعد رضوی پر 98 مقدمات ہیں اور تمام مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اپریل میں سعد رضوی کی گرفتاری کسی مقدمے میں نہیں کی گئی بلکہ ان کو امن وامان میں خلل ڈالنے کے پیش نظر 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کے خاندان کی درخواست پر حکومتی نظربندی کے احکامات معطل کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا البتہ اس عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ سعد رضوی اگر کسی اور مقدمے میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔

حکومت نے سعد رضوی کو ان کے خلاف درج دیگر 98 مقدمات میں گرفتار کرنے کی بجائے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ہائی کورٹ کو ہی نظر بندی سے متعلق کیس دوبارہ سننے کا حکم صادر کیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ تین اکتوبر سے اس کیس کی دوباری سماعت شروع کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایف آئی آر میں جب تک پولیس سعد رضوی کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کرتی حکومت کو کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہیں ہے۔ اگر ان ایف آئی آرز میں گرفتاری ڈالی گئی تو پیچیدگی ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں پھر ایک مکمل قانونی طریقہ کار فالو کرنا پڑے گا۔ جس میں ریمانڈ اور پھر عدالتی صوابدید پر ضمانت۔ اس طرح پھر حکومت کے اپنے بس کا کام نہیں ہوتا۔

اب سوال یہ ہے کہ حکومت جن قانونی پیچیدگیوں کا ذکر کر رہی ہے وہ قانونی عمل ابھی تک شروع ہی کیوں نہیں کیا جاسکا؟

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا تحریر کے متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

protest

TLP

Saad Hussain Rizvi

Comments are closed on this story.