Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور افغانستان کے نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی بردار کے درمیان دوہا میں پیر کے روز ملاقات ہوئی ۔

افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد چینی اور افغان رہنماوں کے درمیان یہ پہلی براہ راست ملاقات ہے۔

ملاقات میں چینی وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ افغانستان کو اس وقت چار چیلنجز درپیش ہیں جس میں انسانی اور معاشی بحران سمیت گورننس اور دہشتگردی کے مسائل شامل ہیں ۔

ملاقات میں چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے افغانستان کو مزید سمجھ بوجھ اور عالمی برادری کی حمایت درکار ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ افغان خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور مزید گروپوں کو حکومت میں حصہ دے کر طالبان کی جانب سے مزید فراخدلی اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

چینی وزیر خارجہ نے افغان نائب وزیراعظم پر زور دیا کہ طالبان پڑوسی ممالک کیساتھ دوستانہ پالیسی اختیار کریں اور جدید خطوط پر ریاست کو استوار کریں جوکہ عوامی خواہشات اور جدید وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ افغانستان کی آزادی و خودمختاری کی پاسداری کریگا اور اس بات کی حمایت کریگا کہ افغان عوام آزادنہ طور پر اپنی قسمت اور ترقی کے راستے کا تعین کرسکیں ۔

چینی وزیر خارجہ نے اس موقعے پر امریکا اور مغرب پر بھی زور دیا کہ وہ افغانستان پر سے پابندی کا خاتمہ کریں اور افغانستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے طالبان کیساتھ عقلی اور عملی طریقہ اختیار کریں ۔

ملاقات میں افغان نائب وزیراعظم ملا برادر نے چینی وزیر خارجہ کو افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ افغانستان میں حالت کنٹرول میں ہیں اور بتدریج بہتر ہورہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ریاستی احکامات بھی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عبوری افغان حکومت بھی تندہی سے لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور حکومت اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کرے گی تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

Source: india.com