Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

طالبان نے افغانستان میں نئی مسلح افواج بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں سابق حکومت کے دور میں کام کرنے والے فوجیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

عرب نیوز کے مطابق افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے ملک چھوڑ جانے کے بعد مغرب کی حمایت یافتہ حکومت اور فوج بھی ختم ہو گئی اور پھر ستمبر میں طالبان نے عبوری حکومت کا اعلان کیا۔

طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے اور افغانستان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے اتوار کو ایک آڈیو پیغام کے ذریعے نئی مسلح افواج بنانے کا اعلان کیا جسے وزارت دفاع نے جاری کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع ایک آزاد اور قومی سطح کی فوج بنانا چاہتی ہے جس کے پاس زمینی اور فضائی سطح پر ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت ہو۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’فوج ہماری ترجیح اور ملک کو اس کی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی امارت ایک بااختیار فوج بنائے گی اور افغانوں کی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی اور اس کے پاس افغانستان کے امن کا دفاع کرنے کی صلاحیت ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نئی فوج طالبان جنگجوؤں اور سابق حکومت کے فوجیوں پر مشتمل ہوگی۔

ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ ’اس فوج میں نئی فورسز اور افغانستان نیشنل آرمی میں کام کرنے والی فورسز شامل ہوں گی۔ ہم ان دونوں فورسز کے ساتھ ایک طاقتور فوج بنائیں گے۔‘

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئی فوج کی تشکیل میں دیگر ممالک کی مدد شامل ہوگی کہ نہیں۔

اس حوالے سے کابل میں معاشی ماہر ہمایوں فروطان کا کہنا تھا کہ ’نئی فوج بنانے کے لیے پیسے اور افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں طالبان کے پاس افرادی قوت ہے اور امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ بھی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ چین اور روس کی مدد بھی ملے، کیونکہ روس کی سرکاری نیوز ایجنسی "تاس" کے مطابق گذشتہ ہفتے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ روس میں طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں رکھا گیا تھا اور اسے وہاں سے ہٹایا جانا اب ممکن ہے۔

تاہم جمعرات کو ایک تقریب میں پوتن نے کہا کہ اس طرح کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سطح پر کیا جائے گا۔