Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

افغان طالبان نے دنیا کو بتا دیا کہ حقیقی ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست کیسے بنتی ہے۔

طالبان کی نئی اسلامی امارات افغانستان نے مہنگائی کا ایسا توڑ نکالا جو بڑی فلاحی ریاستوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے لیے ایک نئی مثال بن گئی ہے، افغان جنگ کے خاتمے کے بعد بڑھتی مہنگائی کو سامنے رکھتے ہوئے طالبان کی نئی حکومت نے کھانے پینے کی اشیا پر تمام ٹیکس ختم کر دیا، تاکہ افغان عوام با آسانی اشیا خورد و نوش خرید سکیں۔

رپورٹ کے مطابق طالبان کی نئی حکومت نے تاجروں کو فوری طور پر کھانے پینے کی اشیا پر چالیس فیصد کمی کا حکم دیدیا۔

نائب ترجمان امارت اسلامیہ افغانستان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد عوام کو بڑی سہولیات دینے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر عوام کو کھانے پینے اور روز مرہ کی اشیا پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا، افغان حکومت نے ٹیکس ختم کرکے عوام کیلئے سستی اشیا کا بندوبست کیا ہے جس کے بعد آٹا، گھی، لوبیا، چاول، چینی سمیت 14 اشیاء کی قیمتوں میں فوری کمی کردی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کی دعویدار تحریک انصاف کی حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی سیمت دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔

گھی کی قیمتوں میں 40 سے 109 روپے تک اضافہ کیا گیا۔ حکومت کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل 40 سے 109 روپے فی کلو مہنگا ہو گیا۔

صابن 3 روپے اضافہ کے ساتھ 133، شو پالش 10 روپے اضافہ کے ساتھ 110، نیل 25 روپے اضافہ کے ساتھ 464، شیمپو 4 روپے اضافہ کے ساتھ 195 جبکہ مصالحہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ عام آدمی کی کمائی صرف کچن کے اخراجات میں ہی نکل جاتی ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ اوپن مارکیٹ میں چیزوں کی قیمتوں پر نظر رکھے۔

گزشتہ روز بھی حکومت نے رات کے اندھیرے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 سے 12 روپے تک اضافہ کر دیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 49 پیسے اضافہ ہوا، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 137 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

وزارت خزانہ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 44 پیسے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 134 روپے 48 پیسے ہوگئی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 95 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔

دو روز قبل وفاقی حکومت نے گھر یلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت کم ازکم 35 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا تھا، اوگرا نے بھی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنے کی سفارش کی تھی۔

ایک جانب وفاقی حکومت گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت کم ازکم 35 فیصد تک بڑھانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اس دوران آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا )نے حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10روپے فی لیٹر تک اضافہ کرنے کی سفارش کی تھی جبکہ گذشتہ روز ہی وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے بھی عوام کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے ابھی مزید کڑوے گھونٹ پینا ہوں گے۔

اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے تک کے اضافے پر حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کہ حکومت پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ نہیں کرے گی تاہم گزشتہ روز وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 سے 12 روپے تک اضافہ کردیا گیا۔

درج بالا تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، آج نیوز اور اس کی پالیسی کا تحریر کے متن سے متفق ہونا ضروری نہیں۔