Aaj News

آف شور جائیدادیں رکھنا قانونی یا غیر قانونی؟؟؟

اتوار کو جاری ہونے والے پینڈورا پیپرز میں دنیا بھر کے امیر اور...
اپ ڈیٹ 04 اکتوبر 2021 08:53pm

اتوار کو جاری ہونے والے پینڈورا پیپرز میں دنیا بھر کے امیر اور طاقتور افراد کی چُھپی ہوئی دولت، ٹیکس سے بچنے اور کچھ معاملات میں منی لانڈرنگ کے ایک کروڑ 20 لاکھ دستوایزات سامنے آئے ہیں.

اس کےلئے 117 مملک کے 600 سے زائد صحافیوں نے 14 ذرائع کی مہینوں جانچ پڑتال کی.

یہ ڈیٹا واشنگٹن ڈی سی میں آئی سی آئی جے کے پاس تھا جو 140 سے زائد میڈیا تنظیموں کے ساتھ کام کر رہی تھی.

پینڈورا پیپرز لیک میں 64 لاکھ دستاویزات، تقریبآ 30 لاکھ تصاویر، 10 لاکھ سے زائد ایم میلز اور تقریبآ پانچ لاکھ کے قریب اسپریڈ شیٹس شامل ہیں.

پینڈورا لیکس اور اس سے قبل پاناما لیکس میں جو لفظ توجہ کا مرکز ہے وہ ہے 'آف شور کمپنی'.

'آف شور کمپنی' کیا ہوتی ہے؟'

آف شور کمپنی ایک ایسی کمپنی ہوتی ہے جو اپنے ملک کے بجائے کسی دوسرے ملک میں کاروبار کی غرض سے بنائی جاتی ہے لیکن عمومآ اس کا مقصد پیسے اور اثاثوں کی ملکیت کو چھُپانا ہوتا ہے. پینڈورا پیپرز میں سرحد پار بنائے گئے کمپنیوں کے پیچیدہ نیٹورکس کو سامنے لایا گیا ہے.

اس طرح اثاثوں کو چُھپانے کا ایک جائز مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنے مال کی مجرموں یا غیرمستحکم حکومتوں سے حفاظت کی جائے.

کن جگہوں کو آف شور خطے کہا جاتا ہے؟

  • جہاں کمپنی قائم کرنا آسان ہو.

  • جہاں ایسے قوانین ہوں جن کے تحت کمپنیوں کے مالکان تک پہنچنا مشکل ہو.

  • جہاں کارپوریشن ٹیک بہت کم یا نا ہو.

ان جگہوں کو عمومآ 'ٹیکس ہیوون' بھی کہا جاتا ہے.ٹیکس ہیونز کی باقاعدہ کوئی فہرست تو نہیں لیکن برٹش اوورسیز ٹیریٹریز جیسے کہ کیمین آئی لنڈ اور برٹش ورجن آئی لینڈ اور سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک شامل ہیں.

ٹیکس ہیونزمیں اثاثےرکھناقانونی طور پر کوئی غلط چیز نہیں اگر ان اثاثوں کو بنانے کےلئے منتقل کی گئی رقم باقاعدہ ذرائع سے پہنچائی گئی ہو نا کہ اسمگلنگ،منی لانڈرنگ یا کسی دوسرے غیرقانونی ذرائع سے منتقل کی گئی ہو.

مزید یہ کہ ان اثاثوں کو اپنے ملکی گوشواروں میں ظاہر کرنا لازمی ہوگا. ایسا نہ کرنے پر یہ تمام دائرہ کار غیرقانونی ہوگا کیوں کہ غیرقانونی رقم کو چُھپایا جارہا ہوگا.

آئی سی آئی جے کے ایک اندازے کے مطابق آف شور چُھپائی گئی دولت کا تخمینہ 56 کھرب ڈالرز سے 320 کھرب ڈالرز کے درمیان لگایاگیا ہے.

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس ہیونز کی وجہ سے دنیا بھر میں حکومتوں کو ہر سال ٹیکسوں میں 600 ارب ڈالرز کا نقصان ہوتا ہے.

corruption

Pandora Papers

ICIJ

Comments are closed on this story.