Aaj TV News

BR100 4,521 Decreased By ▼ -150 (-3.22%)
BR30 17,895 Decreased By ▼ -939 (-4.99%)
KSE100 44,121 Decreased By ▼ -1248 (-2.75%)
KSE30 17,050 Decreased By ▼ -526 (-2.99%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

مصر کے شہر اسکندریہ کے علاقے سموحہ میں دفتر کی مسجد میں نماز ادا کرنے والے نوجوان کی روح نماز کے دوران پرواز کر گئی۔

یہ لمحہ جائے نماز میں لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔

بعد ازاں اس پر مبنی مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر انتہائی تیزی سے وائرل ہونے لگا جس پر "#حسن خاتمہ"‘ سمیت دیگر دلدوز تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

نماز ادا کرنے والا 39 سالہ احمد السید اسکندریہ کے ایک سiکیورٹی ادارے میں خدمات سرانجام دیتا تھا۔ وہ ادارے میں نماز کے لیے مختص چھوٹی کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔

یہ واقعہ 29 ستمبر کو رونما ہوا جسے مانیٹرنگ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا۔ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد السید سجدے کے بعد جائے نماز پر گر جاتے ہیں اور اس دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جاتے ہیں۔

متوفی احمد السید کے رشتہ داروں نے مصری ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دوران نماز رحلت پانے والے نوجوان شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے۔ وہ اسکندریہ گورنری کے گرین ایریا کی ایک کالونی میں رہائش پذیر تھے۔

مرحوم کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ان کے دوران نماز انتقال کے کلپ پر بہت ہی دلدوز تبصرے کیے ہیں۔ ان میں 'تیرے اور تیرے رب کے درمیان کچھ پردہ نہ رہا'۔۔۔ 'جس چیز پر زندگی گذاری, اسی میں موت آئی'... 'حسن خاتمہ' ۔۔۔ 'احمد اللہ کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا' اور 'آپ تو اپنے بچوں کی روزی اور بیمار اہلیہ کے لیے دوا کی خاطر مزدوری کر رہے تھے۔ آپ نماز کے پابند تھے اور اسی میں اپنی جان دے گئے۔' جیسے تبصرے شامل ہیں۔