Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,022 391
DEATHS 28,753 8
Sindh 476,233 Cases
Punjab 443,310 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,811 Cases
KP 180,194 Cases

پاکستان سمیت دنیا بھر کے نامور شخصیات کے مالی امور کی تحقیقات "پنڈورا پیپرز" کے نام سے مکمل ہوگئی ہیں جو کہ اتوار کو جاری کی جائے گی۔

ریلیز ہونے والی دستاویز دنیا کے امیروں اور طاقتوروں کے بہترین طریقے سے پوشیدہ مالی رازوں سے پردہ اٹھائے گی، جبکہ مختلف ممالک کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں ، سرکاری عہدیداروں ، ارب پتیوں ، اچھے اور برے لوگوں کا کچا چٹھا کھولے گی۔

خفیہ معلومات کے اس خزانے کو "پنڈورا پیپرز" کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز سے بہت آگے ہے۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) ، ایک غیر منافع بخش نیوز روم اور واشنگٹن ڈی سی میں قائم صحافیوں کے نیٹ ورک کو 11.9 ملین سے زائد دستاویزات موصول ہوئیں جن میں سروس فراہم کرنے والوں کی 2.94 ٹیرابائٹ خفیہ معلومات ہیں جو آف شور کمپنیوں کو قائم کرنے اور ان کے انتظام میں مدد کرنے کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ اور دنیا بھر میں ٹیکس چوروں کی پناہ گاہوں کا پراعتماد ذریعہ ہیں۔

آئی سی آئی جے نے 150 میڈیا تنظیموں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا اور صحافت کی تاریخ میں وسیع تر تعاون کی قیادت کی۔ آئی سی آئی جے کو اس تفتیش کو منظم کرنے میں تقریباً دو سال لگے جس میں 117 ممالک میں 600 سے زائد صحافی شامل تھے جو اسے اب تک کی سب سے بڑی صحافتی شراکت داری بنا رہے ہیں۔ پاناما پیپرز کے لیے 80 ممالک کے تقریباً 400 صحافیوں نے تحقیقات میں حصہ لیا۔

اس لیک نے پاناما پیپرز سے زیادہ رہنماؤں اور عوامی عہدیداروں کے مالی معاملات کو بے نقاب کیا ہے اور آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے بارے میں دوگنا سے زیادہ معلومات فراہم کی ہیں۔ پاناما پیپرز پاناما کی ایک قانونی فرم موساک فونسیکا کے اعداد و شمار پر مبنی تھے جس میں 140 سیاستدانوں ، عوامی آف شور اور کھیلوں کے ستاروں کی آف شور ہولڈنگز کا انکشاف ہوا۔ یہ دستاویزات جرمن اخبار Sdeddeutsche Zeitung نے حاصل کی تھیں ، جس میں 40 سال پرانے ریکارڈ موجود تھے۔

"پنڈورا پیپرز" اس سے بھی بڑے ہیں اور اس میں سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے بارے میں انکشافات بھی اس سے کہیں زیادہ ہیں جو پہلے لوگوں کی توجہ میں آئے تھے۔ پاکستان سے ، پاناما پیپرز میں 400 سے زائد افراد سامنے آئے۔ پنڈورا پیپرز میں پاکستانیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جن میں بہت سے دلچسپ نام سرخیاں بنائیں گے۔

"پنڈورا پیپرز" کی تحقیقات کرنے والے ادارے انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹو جرنلٹس (آئی سی آئی جے) کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ 'جلد ہر کوئی پنڈورا پیپرز کے بارے میں بات کرنے لگے گا۔ ہماری نئی تحقیق، جو کہ مالیاتی رازوں کے بارے میں اب تک کی سب سے مہنگی تحقیق ہے، اتوار کو جاری ہوگی۔ دنیا کے 117 ممالک کے میڈیا کے 150 اداروں کے 600 سے زائد صحافیوں کی رپورٹنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔'

بین الاقوامی تحقیق "پنڈورا پیپرز" ایک کروڑ 19 لاکھ فائلوں پر مشتمل ہیں۔

اس تحقیقاتی رپورٹ میں ممکنہ طور پر پاکستان کے سینکڑوں افراد کے نام ہو سکتے ہیں جن میں سیاست دان، بیوروکریٹس اور طاقتور شخصیات شامل ہیں۔

خیال رہے کہ پانامہ پیپیرز کی تحقیقات بھی آئی سی آئی جے نے کی تھی جس نے دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتوں اور طاقتور شخصیات کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بھی سپریم کورٹ سے نااہلیت اور بعد میں احتساب عدالت کی جانب سے سزائیں بھی پانامہ سکینڈل کے سبب شروع ہونے والے کیسز کا نتیجہ تھی۔

اعداد و شمار کو جمع کرنے اور تعاون کرنے کے حساب سے "پنڈورا پیپرز" پاناما پیپرز سے زیادہ بڑے ہیں جبکہ دنیا کی صحافتی تاریخ میں کسی تحقیق پر کام کرنے والی یہ سب سے بڑی صحافتی ٹیم ہے۔

پنڈورا پیپرز کی تحقیقات میں پاکستان سے سینیئر صحافی عمر چیمہ اور فخر درانی شامل تھے۔

صحافی عمر چیمہ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 'میں اور @FrehmanD مالی امور کے حوالے سے ایک بین الاقوامی تحقیق کا حصہ تھے جو کہ اب مکمل ہو چکی ہے اس کی اشاعت کے وقت بارے جلدی بتایا جائے گا۔'

ایک دوسرے ٹویٹ میں چیمہ نے بتایا کہ پنڈورا پیپرز اتوار کی رات کو 9:30 بجے جاری ہوں گے۔