Aaj TV News

BR100 4,665 Increased By ▲ 5 (0.1%)
BR30 18,674 Decreased By ▼ -130 (-0.69%)
KSE100 45,072 Decreased By ▼ -258 (-0.57%)
KSE30 17,430 Decreased By ▼ -121 (-0.69%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,840 475
DEATHS 28,728 10
Sindh 475,616 Cases
Punjab 443,094 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,689 Cases
KP 179,995 Cases

پاکستان کے معروف سیسات دان اور مسلم لیگ ن سے وابستہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر "ویڈیو لیک اسکینڈل" کا شکار ہوگئے ہیں، جس پر انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ویڈیو "جعلی" اور ان کے خلاف سیاسی داؤ ہے۔

سوال اٹھتا ہے کہ کہیں محمد زبیر جعلی ویڈیوز بنانے والی ٹیکنالوجی "ڈیپ فیک" کا شکار تو نہیں ہوگئے؟

دنیا بھر میں روزانہ ایسی جعلی ویڈیوز بن رہی ہیں جس میں لوگوں کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جو انہوں نے کبھی کیا نہیں۔

اپریل 2018 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے جہاں انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ 'ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہمارے دشمن ہمیں کچھ بھی کہتے ہوئے کسی بھی وقت دکھا سکتے ہیں، باوجود اس کے کہ ہم وہ چیزیں کبھی نہیں کہتے۔'

اس ویڈیو میں سابق امریکی صدر لوگوں کو تنبیہ کر رہے تھے کہ اس ڈیجیٹل دور میں کسی بھی بات پر بغیر تحقیق کیے یقین کرنا کسی بڑے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

باراک اوباما کی باتیں تقریباً تمام درست تھیں لیکن اس ویڈیو میں باراک اوباما تھے ہی نہیں بلکہ جورڈن پیلے نامی آدمی کا بنایا ہوا "ڈیپ فیک" تھا جو ہو بہ ہو اوباما لگ رہا تھا۔

یوٹیوب/بزفیڈ ویڈیو

٭ ڈیپ فیک ہوتا کیا ہے۔۔۔؟

ڈیپ فیک ان تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو کلپز کو کہتے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت یا دیگر ذرائع سے تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ وہ اصل نظر آئیں۔

"ڈیپ فیک" ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا سہارا لیتے ہوئے کسی بھی شخص کی تصاویر یا ویڈیوز کو باآسانی پڑھ سکتی ہے اور اس کے بعد وہ اس سے وہ کام کرتے ہوئے بھی دکھا سکتی ہے جو دراصل اس انسان نے کبھی کیے نہیں۔

ایسی بہت سی ایپلیکشنز انٹرینٹ پر موجود ہیں جن کے ذریعے "ڈیپ فیک" تیار کیے جاتے ہیں۔

٭ ڈیپ فیک کیوں خطرناک ہے۔۔۔؟

اکتوبر 2019 میں ڈیپ ٹریس نامی ایک ڈیجیٹل کمپنی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال فحش مواد بنانے والی انڈسٹری میں بھی بڑھ رہا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ایسی فلمیں بنانے والے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی مرد یا عورت کا چہرہ کسی دوسرے برہنہ شخص کے چہرے پر لگا سکتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ انٹرنیٹ پر موجود "ڈیپ فیک" ویڈیوز کی تعداد پچھلے ایک سال میں تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔

برطانوی مصنف ہیلن مورٹ کو پچھلے سال ایک دوست کے توسط سے پتہ چلا کہ ان کی فحش تصاویر انٹرینٹ پر گھوم رہی ہیں۔

تھوڑی تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا نیٹ ورک سے کسی نے ان کی تصاویر پہلے ڈاؤن لوڈ کیں پھر ایک فحش ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیں اور لوگوں کو دعوت دی کہ ان تصاویر کو ایڈٹ کیا جائے۔

٭ ڈیپ فیک ویڈیوز کو کس طرح پہچانا جائے۔۔۔؟

پہلے فوٹو شاپ کے ذریعے ایسے کام ہوا کرتے تھے لیکن اب کمپیوٹر سے تیار کردہ پروگراموں کے ذریعے بھی ویڈیو یا تصاویر کو "ڈیجیٹلی آلٹر" کیا جاتا ہے۔

ڈیپ فیک بنانے کے لیے بہت سارے ایلگورتھمز کا استعمال ہوتا ہے۔ ایک ایسا ایلگورتھم موجود ہے جسے ہم "گین جنریٹو ایڈورسریل نیٹورک" کہتے ہیں جو کہ انتہائی مشہور ہے اور ایسے ہی بہت سارے اور ایلگورتھمز موجود ہیں جن کا استعمال ہوتا ہے۔

کسی بھی آدمی یا عورت کی تصویر بنانے کے لیے کمپیوٹر کو پہلے خود سیکھنا پڑتا ہے کہ وہ کسی قسم کا مواد بنا رہا ہے۔

اگر آپ کسی کی تصویر بنا رہے ہیں تو آپ کو پہلے کمپیوٹر کو بتانا پڑتا ہے کہ وہ شخص دکھتا کیسا ہے جس کے لیے کمپیوٹر کو کافی ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔

تاہم ابت تک جو "ڈیپ فیک" ویڈیوز سامنے آئی ہیں انہیں پہچاننا زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ایسی ویڈیوز کو پہچاننے کا کوئی ایک طریقہ نہیں لیکن عام طور پر ویڈیوز کا بیک گراؤنڈ یا ویڈیو میں موجود شخص کے جسم یا چہرے کی حرکت آپ کو بتا دیتی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔

اگر آپ چہرے پر یا بالوں پر تھوڑا سا غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والا شخص اصلی شخصیت سے تھوڑا مختلف ہے۔