Aaj TV News

BR100 4,734 Increased By ▲ 18 (0.38%)
BR30 20,739 Decreased By ▼ -101 (-0.48%)
KSE100 45,491 Decreased By ▼ -8 (-0.02%)
KSE30 17,823 Decreased By ▼ -2 (-0.01%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,266,826 622
DEATHS 28,328 16
Sindh 466,750 Cases
Punjab 438,433 Cases
Balochistan 33,149 Cases
Islamabad 106,571 Cases
KP 177,132 Cases

طالبان رہنما اور ترجمان امارت اسلامی افغانستان ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ انتقال کر گئی ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کی نماز جنازہ افغان صوبے پکتیا میں ادا کی جائے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ماں کے بغیر زندگی مشکل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔

قبل ازیں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ہم سی پیک میں شمولیت چاہتے ہیں اور اول ترجیح تجارت کا فروغ ہے جبکہ افغانستان کو پشاور سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اب افغانستان میں تعمیری کام ہوں، سڑکیں، پل اور لوگوں کے لیے گھر بنیں تاہم ساتھ ہی انہوں ںے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی لڑائی یا حملے کی خواہش رکھتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور اس کا مؤقف قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور ازبکستان سمیت بعض دیگر ممالک نے بھی مثبت مؤقف اپنایا ہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ 6 روز قبل چین اور روس نے بھی ہمای حکومت کے حق میں اقوام متحدہ میں بات کی اور کئی ممالک نے امریکہ اور عالمی برادری کے سامنے ہمارے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے ہیں اور بیشتر مقامی علمائے کرام، عمائدین اور مجاہدین ہمارے ساتھ ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنج شیر میں لڑائی ختم ہوچکی ہے اب افغانستان کو تجارت اور اقتصادی امور میں ہمسایہ ممالک کی ضرورت ہے اور ہمسایہ ممالک افغانستان سے متعلق اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے جبکہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے روابط ضروری ہیں۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے زور دے کر کہا کہ اب وقت ہے کہ افغان قوم ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ سی پیک منصوبہ اہم ہے لیکن تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

گزشتہ ہفتے ذبیح اللّٰہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کر رہا۔ افغان حکومت کو تسلیم کیئے بغیر حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ہم پر تنقید کی جا رہی ہے، ہمارے خیال میں یہ یک طرفہ نقطۂ نظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کے لیے اچھا ہو گا کہ وہ ہمارے ساتھ ذمے دارانہ طور پر برتاؤ کریں اور تنقید کرنے والے ہماری حکومت کو ذمے دار انتظامیہ کے طور پر تسلیم کریں۔

ذبیح اللّٰہ مجاہد کا مزید کہنا ہے کہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد قانونی طور پر اپنے خدشات ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں جبکہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہم ان کے خدشات دور کریں گے۔

ادھر کابل میں وزارت تجارت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے نائب وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا 50 ممالک کا اتحاد ہمارے خلاف افغانستان میں داخل ہوا تھا، افغانستان میں بیرون ملک سے لڑنے کوئی جنگجو نہیں آیا اور امن کا سہرا مقامی افراد کے سر جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، تصادم نہیں چاہتے اور نہ ہی اس میں پہل کریں گے۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ افغان عوام سے دوستی کے لیے کوئی ایک قدم بڑھائے تو طالبان حکومت دو قدم بڑھاتی ہے، نظام میں مشکلات ہیں لیکن اس کا محور عوام کی فلاح ہے، ایسے حالات بنائیں گے کہ کوئی ملک چھوڑ کر نہ جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو وطن چھوڑنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے، ہماری پالیسی عوام کو متحد کرنے کی ہے، ملک کی اقتصادی ترقی کی ذمہ داری تاجروں پر ہے، تاجروں کے لیے کوئی روک ٹوک ہے نہ رشوت کا بازار ہے، آج وزراء آپ کی پہنچ میں ہیں۔