Aaj TV News

BR100 4,687 Decreased By ▼ -28 (-0.59%)
BR30 18,641 Decreased By ▼ -617 (-3.2%)
KSE100 45,612 Decreased By ▼ -151 (-0.33%)
KSE30 17,942 Decreased By ▼ -56 (-0.31%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,328,487 4,340
DEATHS 29,019 7
Sindh 502,500 Cases
Punjab 453,392 Cases
Balochistan 33,705 Cases
Islamabad 111,376 Cases
KP 182,311 Cases

طالبان کے سینئر رہنما ملا نورالدین ترابی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے داخلی امور میں مداخلت کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن سزاؤں کو مناسب سمجھیں گے ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسٹیڈیم یا کھلے میدان میں سزاؤں کے نفاذ پر ہر کسی نے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن ہم نے تو کبھی ان کے قوانین اوران کے ہاں نافذ العمل سزاؤں کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی دوسرا ہمیں نہیں بتائے کہ ہمارے قوانین کیا ہونے چاہئیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ہم اسلام کی پیروی کریں گے اور قرآن پر مبنی قوانین بنائیں گے۔

ملا نورالدین ترابی طالبان کے سابقہ دورمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وزارت کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے مجرم قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے گی تاہم انہوں ںے واضح کیا کہ مقتول کے متاثرہ خاندان کے پاس یہ اختیار باقی ہے کہ وہ قصاص کے بجائے قاتل کی جان بخشی کے بدلے میں خون بہا کی رقم (دیت) قبول کرسکتے ہیں۔

ملا نورالدین ترابی نے کہا کہ چوروں اور ڈاکوؤں کو قصور وار ثابت ہونے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا دی جائے گی اور شاہراہوں پر مسلح ڈکیتیوں کے مجرموں کا الٹا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں امن وامان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے کسی مجرم کا ہاتھ کاٹنا ضروری ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ طالبان کے سزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے جج حضرات مقدمات کا سماعت کے بعد فیصلہ کریں گے اور پھران کا نفاذ کیا جائے گا۔

ملا نورالدین ترابی نے کہا کہ ہم ماضی کے مقابلے میں اب بدل چکے ہیں۔ انہوں ںے واضح کیا کہ اب طالبان ٹیلی ویژن و موبائل فون کے استعمال اور تصاویرو ویڈیو بنانے کی اجازت دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس کے متعلق سنجیدہ ہیں۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سینئر طالبان رہنما ملا نورالدین ترابی نے کہا کہ طالبان میڈیا کو اپنا پیغام پھیلانے کا ایک ذریعہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح ہم سینکڑوں افراد کے بجائے لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔