Aaj TV News

BR100 4,665 Increased By ▲ 5 (0.1%)
BR30 18,674 Decreased By ▼ -130 (-0.69%)
KSE100 45,072 Decreased By ▼ -258 (-0.57%)
KSE30 17,430 Decreased By ▼ -121 (-0.69%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,840 475
DEATHS 28,728 10
Sindh 475,616 Cases
Punjab 443,094 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,689 Cases
KP 179,995 Cases

متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے محققین نے ایک مثالی سائنسی تجربہ کیا ہے جو پانی صاف کرنے کی صنعت میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یونیورسٹی کے نیشنل واٹر اینڈ انرجی سینٹر کے سائنس دانوں نے پانی سے نمک کے اخراج کا ایک نیا طریقہ متعارف کروایا ہے جو ڈی سلینیشن کے عمل کے دوران توانائی کی کھپت کو مؤثر طریقے سے کم کرتا ہے۔ کم توانائی سے پانی صاف کرنے کے اس نظام کو امریکی پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک آفس کی جانب سے پیٹنٹ سےنوازا گیا ہے۔

یوں متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے سائنس دانوں کی جانب سے قومی ترجیح کے شعبوں میں حاصل کردہ پیٹنٹس کی تعداد 178 سے زائد ہو گئی ہے جو متحدہ عرب امارات کے پائیدار ترقیاتی منصوبوں کے لیے یونیورسٹی کی طرف سے فراہم کردہ معاونت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔

روایتی ڈی سلینیشن کے عمل میں حرارت، پانی کا دوبارہ گاڑھا ہونا اور پھر بخارات کے ساتھ باریک جھلیوں کا استعمال شامل ہے جو پانی کو بغیر نمک کے گزرنے دیتا ہے۔ یہ عمل بشمول تھرمل اور ریورس اوسموسس ڈی سلینیشن سسٹم بہت زیادہ مقدار میں توانائی استعمال کرتے ہیں۔

اس کے برعکس متحدہ عرب امارات یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے تھرموڈاینامکس کے نظریاتی اصولوں اور بڑے پیمانے پر توانائی کے تحفظ کا براہ راست اطلاق کیا ہے تاکہ یہ دریافت کیا جا سکے کہ پانی کو زیادہ اور کم دباؤ کے امتزاج کے ذریعے کیسے صاف کیا جا سکتا ہے۔

اس جدید طریقہ کار میں نمکین پانی کو سب سے پہلے ہائی پریشر پر ایک پائپ لائن کے ذریعے وینچوری ڈیوائس کے ذریعے دھکیل دیا جاتا ہے جس میں پانی کی رفتار بڑھا دی جاتی ہے اور اس کا دباؤ کم کیا جاتا ہے تاکہ بغیر حرارت کے یا کم سے کم حرارتی نظام کے بخارات بن سکیں۔ پھر پانی کو بہت کم دباؤ پر رکھ کر بھاپ میں تبدیل کر دیا جاتا ہےاور دوبارہ گاڑھا ہونے کے بعد پانی مکمل طور پر صاف کیا جاتا ہے۔