Aaj TV News

BR100 4,761 Increased By ▲ 45 (0.95%)
BR30 20,776 Decreased By ▼ -64 (-0.31%)
KSE100 45,660 Increased By ▲ 161 (0.35%)
KSE30 17,920 Increased By ▲ 96 (0.54%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,266,826 622
DEATHS 28,328 16
Sindh 466,750 Cases
Punjab 438,433 Cases
Balochistan 33,149 Cases
Islamabad 106,571 Cases
KP 177,132 Cases

دفتر خارجہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار خان آفریدی کو سکریننگ کے لیے نیویارک کے JFK ایئرپورٹ پر مختصر وقت کے لیے روکا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

شہریار آفریدی 15 ستمبر کو سہ پہر 3:15 بجے پرواز QR-0701 (قطر ایئر لائن) کے ذریعے نیویارک پہنچے تھے۔

ڈان نیوز کے مطابق اتوار کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پہلی مرتبہ آنے والے مسافر کے طور پر شہریار آفریدی کو مختصر وقت کے لیے سیکنڈری سکریننگ کے لیے روکا گیا تھا اور سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے کسی کی مانگی گئی یا دی گئی ضمانت کے بغیر معمول کے مطابق کلیئر قرار دے دیا گیا۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی پوسٹس اور نیوز رپورٹس حقائق کے منافی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔ ساتھ ہی فوٹو شاپ شدہ تصاویر بھی شئیر کی گئیں جن میں شہریار آفریدی کو برہنہ حالت میں ائیرپورٹ پر دکھایا گیا ہے۔

معروف پاکستانی صحافی سلیم صافی نے لکھا کہ ’کچھ جعلسازوں کی طرف شہریارآفریدی کی فوٹو شاپ تصویر ری ٹویٹ کرنے پر معذرت خواہ ہوں البتہ اس بات کی خوشی ہے کہ رانا ثنا کی طرح امریکیوں نے ان کے ہاں سے دس کلو ہیروئین برآمد نہیں کرائی۔‘