Aaj TV News

BR100 4,775 Increased By ▲ 12 (0.25%)
BR30 20,728 Increased By ▲ 57 (0.28%)
KSE100 46,020 Increased By ▲ 198 (0.43%)
KSE30 18,096 Increased By ▲ 90 (0.5%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,267,393 567
DEATHS 28,344 16
Sindh 466,945 Cases
Punjab 438,636 Cases
Balochistan 33,159 Cases
Islamabad 106,615 Cases
KP 177,240 Cases

وسطی بھارت میں بندیل کھنڈ علاقے کے ایک قحط زدہ گاؤں میں کم از کم چھ 5 سالہ کم عمر لڑکیوں کو مبینہ طور پر بے لباس کر کے گھمایا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس رسم کا مقصد "بارش کے دیوتاؤں" کو خوش کرنا ہے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق گاؤں کے مقامی لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اگر لڑکیوں کو برہنہ گھمایا جائے تو بارش کے بھگوان خوش ہوجاتے ہیں اور انہیں خشک سالی جیسی صورت حال سے راحت مل سکتی ہے۔

بھارت میں بچوں کے حقوق کے سب سے بڑے ادارے نیشنل کمیشن فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے ضلع داموہ کی انتظامیہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ مذکورہ گاؤں اسی ضلعے میں واقع ہے۔

داموہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی آر تنیور نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کو بتایا ہے کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اگر پتہ چلا کہ لڑکیوں کو زبردستی برہنہ کیا گیا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ تنیور نے بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ دیہاتی بچیوں کی مرضی سے یہ رسم ادا کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کاندھے پر اشیا کوٹنے کے لیے استعمال ہونے والے بھاری ڈنڈے اٹھائے لڑکیوں کو برہنہ حالت میں چلایا گیا۔ لڑکیوں نے گھر گھر جا کر آٹا، دالیں اور دوسری اجناس مانگیں۔ رسم کے مطابق یہ اشیا بعد میں عوامی باورچی خانے کو عطیہ کر دی جاتی ہیں جو ایک مندر کے قریب بنایا گیا ہے۔ ان چیزوں کو یکجا کرکے بعد میں ایک مندر میں پکایا گیا اور پورے گاؤں کے لوگوں میں تقسیم کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکیوں نے اپنے کاندھوں پر لکڑی کے ڈنڈے اٹھا رکھے ہیں جن کے ساتھ مینڈک بندھا ہوا ہے اور خواتین کہہ رہی ہیں کہ ’ان کا عقیدہ ہے کہ اس طرح بارش ہو گی۔‘

ایک ویڈیو میں ان خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ اس سے بھگوان خوش ہوں گے، بارش ہوگی اور کھیتوں میں ہماری فصلیں بچ جائیں گی جو بارش نہ ہونے کی وجہ سے مرجھا گئی ہیں۔

ڈسٹرکٹ کلکٹر ایس کرشن چیتنیا نے مزید بتایا ہے کہ بچیوں کے والدین بھی اس رسم کی ادائیگی میں ملوث ہیں اور اب تک کسی مقامی شخص نے واقعے کی شکایت درج نہیں کروائی۔

چیتنیا نے پی ٹی آئی کو بتایا: ’اس قسم کے معاملات میں انتظامیہ صرف لوگوں کو اس توہم پرستی کے بے کار ہونے کے بارے میں آگاہی دے سکتی ہے اور انہیں سمجھا سکتی ہے کہ ایسے عمل سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوتے۔‘

٭ بھارت بدترین توہم پرستی کا شکار

بھارت گو کہ زرعی ملک ہے لیکن یہاں کی زراعت بڑی حد تک مون سون کی بارش پر منحصر ہے اور بارش نہ ہونے کی صورت میں کسانوں کا بہت نقصان ہوتا ہے۔ ایسے میں توہم پرست افراد بارش کے بھگوان کو خوش کرنے کے لیے کئی طرح کی مقامی رسومات ادا کرتے ہیں۔

بعض مقامات پر مینڈکوں اور گدھوں کی شادی کا باضابطہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان میں پورا گاؤں شریک ہوتا ہے۔ بعض جگہوں پر خواتین کھیتوں میں برہنہ ہوکر اپنے کاندھے پر رکھ کر ہل چلاتی ہیں۔ کچھ مقامات پر لوگ ننگے بدن کانٹوں پر لوٹتے ہیں۔ ایسا کرنے والے بالعموم دلت ہوتے ہیں۔ ان کا اعتقاد ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے بھگوان کو رحم آجائے گا اور بارش ہوگی۔

اس طرح کے واقعات کی خبریں مدھیا پردیش کے علاوہ آسام، تامل ناڈو، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اوڈیشہ اور بہار کی ریاستوں میں اکثر آتی رہتی ہیں۔

مدھیہ پردیش میں عجیب و غریب رسوم کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ 2018 میں دو مینڈکوں کی باضابطہ طور پر اس امید میں شادی کروائی گئی تھی کہ اس سے علاقے میں بارش ہو جائے گی۔ شادی کی تقریب میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی اس وقت کی ریاستی وزیر للیتایادو نے بھی شرکت کی تھی۔

2017 کے اوائل میں ریاست میں ہم جنس پرست جوڑے کی شادی کروائی گئی جو ملک میں غیرقانونی فعل ہے۔ یہ بارش کے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے ایک علامتی عمل تھا۔