Aaj News

متحدہ عرب امارات: گولڈن اور گرین ویزا کی اہلیت اور درخواست کی شرائط کیا ہیں؟

گذشتہ سال متحدہ عرب امارات نے"گولڈن ویزا" متعارف کرایا تھا۔ جو...
شائع 08 ستمبر 2021 02:00pm

گذشتہ سال متحدہ عرب امارات نے"گولڈن ویزا" متعارف کرایا تھا۔ جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو متحدہ عرب امارات میں دس سال کی میعاد کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے یو اے ای نے "گرین ویزا" کے نام سے ایک اور اسکیم متعارف کرائی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاروں، کاروباری افراد اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل غیرملکیوں سمیت مختلف زمروں کے لیے طویل مدت کی رہائش کے ویزے متعارف کرائے ہیں۔

اس ہفتے کے اوائل میں متعارف کردہ گرین ویزا کی شرائط کے مطابق اب یو اے ای میں انتہائی ہنرمند افراد کسی آجر سے وابستہ ہوئے بغیر خود کو اسپانسر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے ایک نئے "فری لانسر ویزا" کا بھی اعلان کیا ہے۔

ویزے کا یہ نیا نظام متحدہ عرب امارات میں مقیم غیرملکیوں کو ان کے اہل خانہ کے ساتھ پہلے سے برسر روزگار نہ ہونے کی صورت میں بھی رہنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایسے افراد اگر ملک میں کام کرنا، رہنا اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اماراتی اسپانسر کے بغیر طویل مدت کی رہائش کا ویزا حاصل کرنے کی اجازت ہے۔

متحدہ عرب امارات نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ معاشی مسابقت کو فروغ دینے اور اگلے نو سال میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 150 ارب ڈالر (550 ارب اماراتی درہم) کو فروغ دینے کے لیے پچاس نئے اقتصادی اقدامات شروع کرے گا۔

ان نئے منصوبوں کے حصے کے طور پر متعارف کردہ قانونی ترامیم میں سے ایک انٹری اور ریزیڈنسی سسٹم کی تشکیل نو ہے۔ اس میں تارکین وطن کے لیے گرین ویزا، فری لانسر ویزا کا اعلان اور گولڈن ویزا کی اہلیت میں توسیع شامل ہے۔

٭ گولڈن ویزا

متحدہ عرب امارات نے گذشتہ سال پانچ یا دس سالہ مدت کے لیے گولڈن ویزے کے اجرا کا اعلان کیا تھا۔ یہ ویزا ڈاکٹروں، سائنسدانوں، جدت پسندوں، محققین،امتیازی تعلیمی قابلیت کے حامل طلبہ، انسانی کارکنوں، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، منیجروں، چیف ایگزیکٹو افسروں (سی ای اوز) اور سائنس، انجینئرنگ، صحت، تعلیم، بزنس مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ ماہرین کو جاری کیا جاتا ہے۔

حاکمِ دبئی شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا تھا کہ گولڈن ویزا کا مقصد متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ بین الاقوامی ہنر مند اور باصلاحیت افراد کو ملک میں طویل مدت کے قیام پر آمادہ کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

یو اے ای کی حکومت نے اس ہفتے کے اوائل میں اس ویزے کی اہلیت میں توسیع کی ہے اوراب مختلف شعبوں کے ماہرین اس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

٭ گرین ویزا

متحدہ عرب امارات نے گرین ویزا کے نام سے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی ہے جو ورک پرمٹ اور اقامتی ویزوں میں فرق کرتی ہے۔

گرین ویزا انتہائی ہُنرمند افراد، سرمایہ کاروں، کاروباری افراد، ممتاز طلبہ اور گریجویٹس کو جاری کیا جائے گا۔ اس سے دیگر امور کے علاوہ فری لانسرز، بیواؤں اور طلاق یافتہ افراد کے لیے ویزا پابندیوں میں بھی نرمی کی جائے گی۔ گرین ویزا رکھنے والے افراد خود مکتفی ہوں گے اور18 سال کی بجائے 25 سال تک والدین اور بچّوں کی کفالت کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کی رہائش ملازمت سے مشروط ہوتی تھی اور کوئی آجر اگر کسی تارک وطن ملازم کو برخاست کردیتا تھا تو پھر اس کو ملک سے جانا پڑتا تھا اور وہ اس کے بغیر مقیم نہیں رہ سکتا تھا۔

آجروں کو غیرملکیوں کا اسپانسر سمجھا جاتا تھا اور اگر کوئی غیر ملکی اپنی ملازمت کھودیتا ہے تو انہیں ایک ماہ کے اندر متحدہ عرب امارات میں رہنے کے لیے نیا روزگار تلاش کرنے یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مزید برآں، والدین پہلے اپنی بیٹی کے رہائشی ویزے کی کفالت کرسکتے تھے جب تک کہ وہ شادی نہ کر لے۔ تاہم، بیٹوں کو صرف 18 سال کی عمر تک اسپانسر کرنے کی اجازت تھی۔ اب وہ 25 سال تک انہیں اسپانسر کرسکتے ہیں۔

٭ فری لانسر ویزا

فری لانسر ویزا اپنی نوعیت کی پہلی وفاقی اسکیم ہے۔ فری لانسر آجر کی حیثیت سے خود کو سپانسر کرسکتے ہیں۔

یو اے ای نے جو بعض دوسری تبدیلیاں کی ہیں، ان میں کاروباری سفر کے اجازت ناموں میں تین ماہ سے چھے ماہ تک توسیع، براہ راست خاندان کے افراد کے ویزے کے تحت والدین کی کفالت، انسانی صورت حال میں ایک سال کی رہائش میں توسیع، والدین کے ہاں بچوں کو 18 سال کے بجائے 25 تک رہنے کی اجازت اور ملازمت سے محروم ہونے یا ریٹائرمنٹ پر مہلت کی مدت کو 90 دن سے بڑھا کر180 دن تک کرنا شامل ہیں۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق ویزا سے متعلق پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں اور باصلاحیت افراد کو کسی اسپانسر کے بغیر اور اپنے کاروبار کی 100 فی صد ملکیت کے ساتھ متحدہ عرب امارات میں رہنے، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کرنے کے لیے طویل مدت کی رہائش کے ویزے جاری کیے جارہے ہیں۔

٭ گرین ویزا اور گولڈن ویزا کی درخواست

متحدہ عرب امارات کے رہائشی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت اور شہریت کی ویب سائٹ کے ذریعے گولڈن ویزا ایپلی کیشن سسٹم تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں : https://smartservices.ica.gov.ae/

اس میں "گولڈن سروسز" سیکشن میں، ایک اہل شخص "نامزدگی کی درخواست" جمع کراسکتا ہے۔ البتہ اگر اسے ابھی تک طویل مدتی ویزا حاصل کرنے کے لیے نامزد نہیں کیا گیا ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں لوگ اس نمبر 600522222 پر فون کرکے اتھارٹی کے کال سینٹر سے رجوع کرسکتے ہیں۔ تاہم یو اے ای نے ابھی تک گرین ویزا کے لیے درخواست کے طریق کار کا اعلان نہیں کیا ہے۔

UAE

visa

Comments are closed on this story.