Aaj.tv Logo

احمدی اور نجرابی فیملی نے اپنا سارا سامان پیک کر رکھا تھا، انتظار کیا جا رہا تھا کہ کب امریکی حکام کی جانب سے بلاوا آئے اور وہ کابل ایئر پورٹ لے جائے جائیں اور امریکہ منتقل کر دئے جائیں، لیکن واشنگٹن نے جو پیغام ان کے گھر بھیجا، وہ ایک راکٹ تھا۔

اتوار کی سہ پہر ہونے والا ڈرون حملہ، جس کے بارے میں امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ داعش خراسان کے ہدف پر کیا گیا تھا، اس ڈرون حملے نے دو سے 40 سال کی عمر کے 10 افراد کو ہلاک کو ابدی نیند سُلا دیا۔

تاہم، امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ امریکہ نے کابل میں دفاعی فضائی حملہ کیا، جس نے ایک مشتبہ آئی ایس آئی ایس کے خودکش حملہ آور کو نشانہ بنایا۔ بقول امیرکی سینٹرل کمانڈ، کابل ائیر پورٹ کو اس "مبینہ" حملہ آور سے "فوری" خطرہ لاحق تھا۔

پینٹاگون نے اپنی صفائی میں کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ثانوی دھماکے ہوئے، اور یہ دھماکے ہی "شاید" عام شہریوں کی ہلاکت کا سبب ہو سکتے ہیں۔

لیکن ہلاک شدہ خاندان کے ارکان کچھ اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں، خاندانی ذرائع کے مطابق اتوار کو ہونے والے فضائی حملے میں سب سے کم عمر دو 2 سالہ بچی تھی۔

تصویر بزریعہ سی این این
تصویر بزریعہ سی این این

دیگر ہلاک شدگان میں ان دو بچیوں کے علاوہ کئی بچے بھی شامل تھے۔ تصویر میں اوپر سے بائیں طرف فرزاد عمر 9 ، فیصل عمر 10 ، زمرے عمر 40 ، ضمیر عمر 20، جبکہ نیچے بائیں سے نصیر عمر 30 ، بنیامین عمر 3 ، ارمین عمر 4 اور سمیا جس کی عمر صرف 2 سال تھی۔

ایمل احمدی، جن کی بھانجی اور بھتیجے ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے اب بھی غیر یقینی کی حالت میں ہیں۔ دیگر محلے داروں کی طرح وہ بھی غصہ ہیں کہ ان کے بھائی، بھتیجے اور بھانجیوں کو میڈیا میں کبھی نہیں دکھایا گیا کہ وہ کیا ہیں، ایک خاندان جو ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہا ہے۔

گھنٹوں تک انہیں اور باقی بچ جانے والے خاندان کے افراد کو افغان اور بین الاقوامی میڈیا پر اپنے پیاروں کا احوال سننا پڑا۔ جنہیں داعش خراسان سے تشبیہہ دی جارہی تھی، ان کی باقیات کو انہیں اپنے ہاتھوں سے جمع کرنا پڑا۔

متاثرین کی اکثریت کے بارے میں جن میں دو سالہ ملیکا بھی شامل ہے احمدی نے کہا، 'وہ معصوم ، بے سہارا بچے تھے'۔

'اگر میں گروسری خریدنے کے لیے باہر نہ گیا ہوتا تو میں خود بھی متاثرین میں شامل ہو سکتا تھا۔'

ان کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی 40 سالہ انجینئر زمرائی ابھی کام سے گھر پہنچا تھا۔ کیونکہ فیملی امریکہ روانگی کی توقع کر رہی تھی، زمرائی نے اپنے ایک بیٹے سے کہا کہ وہ دو منزلہ گھر کے اندر گاڑی کھڑی کرے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے بڑے لڑکے امریکہ پہنچنے سے پہلے ڈرائیونگ کی مشق کریں۔

ایمل نے الجزیرہ کو بتایا، 'بہت سے بچے جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہو گئے ، کہ انہیں گلی سے گھر کے باغ تک کا مختصر چکر لگانے کو مل جائے گا۔'

'لیکن جیسے ہی کار رکی، اسی وقت راکٹ گرا۔'

٭ خون سے سُرخ دیواریں

اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ افغانستان میں تباہی کا ایک بہت ہی عمومی منظر تھا جو ہر گلی میں دیکھنے کا باآسانی مل سکتا ہے۔ خوف میں مبتلا رشتہ دار اور پڑوسی جائے وقوعہ کی طرف بھاگے۔ کچھ لوگ اس امید پر پانی لے آئے کہ وہ آگ کو بجھا دیں جو ٹویوٹا سیڈان سے پھیل گئی تھی۔

ڈرون حملے کی زد میں آنے والی کار کی باقیات (تصویر:علی ایم لطیفی/الجزیرہ)
ڈرون حملے کی زد میں آنے والی کار کی باقیات (تصویر:علی ایم لطیفی/الجزیرہ)

پڑوسیوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر، جہاں چھوٹے بچے اور بچیاں چند منٹ پہلے کھیل رہے تھے، ایک "خوفناک منظر" میں تبدیل ہوچکا تھا۔ انسانی گوشت دیواروں سے چپکا ہوا تھا۔ ہڈیاں جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔ دیواریں خون سے سرخ تھیں۔ ہر طرف ٹوٹے شیشے بکھرے ہوئے تھے۔

ایک چھوٹے بچے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک پڑوسی فرزاد نے کہا، 'ہمیں صرف اس کی ٹانگیں ملی ہیں۔'

دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پیر کو پینٹاگون کے ترجمان جان ایف کربی نے کہا کہ امریکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے۔ ہم اس کی تفتیش کر رہے ہیں۔

٭ محلے میں غصہ

متاثرہ فیملی کے ایک پڑوسی عبدالطین نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ صحیح ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تو افغانستان کو افغانیوں کے حوالے کر دیں۔

دیگر پڑوسی کہتے ہیں کہ انہیں صرف خاندان کے دو افراد زمرائی اور ان کے بہنوئی ناصر نجرابی کو دیکھنا تھا یہ سمجھنے کے لیے کہ ان کے ارادے کیا ہیں، ان کا کسی مسلح گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

زمرائی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ٹیکنیکل انجینئر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کے بہنوئی ناصر نجرابی جو ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے، جنوبی صوبے قندھار میں افغان فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے۔

زمرائی کے دوسرے بھائی رومل جو کہ حملے کے وقت دور تھے، پانی اور توانائی کی وزارت میں بطور ڈرائیور کام کرتے تھے۔ حکومت کے ساتھ مردوں کے وقت اور غیر ملکی افواج سے وابستگی کی وجہ اس خاندان نے امریکہ کی طرف سے پیش کردہ ایک خاص مہاجر ویزا حاصل کیا تھا۔

ایمل نے کہا، 'انہوں نے نجی کمپنیوں میں کام کیا۔ انہوں نے فوج میں خدمات انجام دیں۔ وہ حکومت کا حصہ تھے ، کسی کو کیا خیال ہوگا کہ وہ دہشت گرد ہیں؟'

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی اور افغان فضائی حملوں سے شہری ہلاکتیں کم نہیں ہیں، لیکن پچھلے 15 سالوں میں ان میں سے زیادہ تر صوبوں ننگرہار ، بغلان ، میدان وردک ، تخار ، ہرات ، قندوز اور لوگر جیسے دور دراز علاقوں میں تھے، دارالحکومت نہیں۔

جرمنی میں مقیم افغان صحافی عمران فیروز کہتے ہیں کہ امریکی حملے کے آغاز سے لے کر اپنے آخری دنوں تک ، واشنگٹن اور اس کے اتحادی افغان عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ فضائی حملے صرف دہشت گردوں کو مار رہے ہیں لیکن اب کابل میں ہم ان کی حقیقت دیکھ رہے ہیں۔

انخلاء سے قبل یہ امریکہ کی افغانستان میں رہتے ہوئے یہ آخری فضائی کارروائی تھی جو جاتے جاتے بھی افغانوں کے دلوں پر ایک زخم چھوڑ گئی۔ لیکن یہ آخری ڈرون حملہ ہر گز نہیں۔

٭انخلاء مکمل

دو ہفتے کی افراتفری سے بھرپور آپریشن کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء پیر کی شب دیر سے مکمل ہوگیا اور افغانستان کی سرزمین سے آخری امریکی فوجی طیارے میں سوار ہوکر ملک چھوڑ گیا۔

یوں امریکی انخلا کے لیے صدر جو بائیڈن کی مقرر کردہ 31 اگست کی تاریخ سے کچھ گھنٹے قبل ہی امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جنگ اور انخلا کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مک کینزی نے کہا آخری امریکی طیارے کابل ہوائی اڈے سے امریکی وقت پیر کی دوپہر تین بج کر 29 منٹ (کابل میں رات 12 بجے سے ایک منٹ پہلے) پر اڑے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ امریکی شہری افغانستان میں رہ گئے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ ملک چھوڑ سکیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے پیچھے رہ جانے والے امریکیوں کی تعداد 200 سے کم بتائی ’ممکنہ طور پر سو کے قریب‘ اور کہا کہ ان کا محکمہ انہیں نکالنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔