Aaj TV News

BR100 4,503 Increased By ▲ 106 (2.4%)
BR30 17,591 Increased By ▲ 599 (3.53%)
KSE100 44,041 Increased By ▲ 760 (1.76%)
KSE30 17,138 Increased By ▲ 361 (2.15%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,287,393 232
DEATHS 28,784 7
Sindh 476,958 Cases
Punjab 443,560 Cases
Balochistan 33,509 Cases
Islamabad 107,960 Cases
KP 180,412 Cases

امریکی جیل میں قید پاکستانی نیورو سرجن ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر ساتھی قیدی نے حملہ کردیا، جس سے ان کا چہرا اور جسم زخمی ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ افراد کو معاونت فراہم کرنے والی برطانوی تنظیم "کیج" کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق امریکا کی ریاست ٹیکساس کی جیل میں قید عافیہ صدیقی کے وکلا نے بتایا ہے کہ ایک قیدی کافی عرصے سے عافیہ صدیقی کو مسلسل ہراساں کررہا تھا اور اسی نے ان پر کافی کے کپ میں موجود کھولتی ہوئی چیز ان کے چہرے پر پھینک کر حملہ کیا۔

پریس ریلیز میں بھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کپ میں کافی تھی یا کوئی اور مائع چیز موجود تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گرم چیز چہرے پر پھینکنے سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی زخمی ہوئیں اور انہیں حملے بعد سیل سے نکالنے کیلئے وہیل چیئر کا استعمال کرنا پڑا ہے۔

حملے کے حوالے سے عافیہ صدیقی نے وکیل ماروا ایلبیلی کو بتایا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ حملے کے نتیجے میں میں اندھی نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وکیل مروہ البیانی کا کہنا ہے کہ ایک قیدی نے گرم کافی کا کپ ڈاکٹر عافیہ کے چہرے پر دے مارا جس سے ان کی بینائی تو بچ گئی مگر چہرہ شدید زخمی ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے کا علم انہیں اس وقت ہوا جب وہ عافیہ سے ملنے جیل گئیں، ان کی موکلہ کا چہرہ اور جسم جھلسا ہوا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹرعافیہ ہراساں کيے جانے کی شکایت کرتی رہتی ہیں لیکن امریکی حکام اس حوالے سے کچھ نہیں کررہے۔

امریکا میں مسلمان تنظیمیں بھی ڈاکٹرعافیہ کی شکايات پرکارروائی نہ ہونے پر برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو افغانستان کی خواتین کی فکر ہے لیکن اپنی جیل میں قید عافیہ صدیقی کی نہیں۔

دریں اثناء عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہا ان کی بہن عافیہ صدیقی کی وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹرعافیہ کی آنکھوں کے گرد جلنے کی وجہ سے پڑنے والا حلقہ، ان کی بائیں آنکھ کے قریب لگ بھگ 3 انچ کا داغ ، ٹوتھ پیسٹ میں ڈھکے ہوئے ان کے دائیں گال پر زخم اور کاغذ کا ایک چھوٹا ٹکڑا تھا اور ان کے دائیں بازو اور ٹانگوں پر بھی زخم آئے۔

مروہ البیانی کی طرف سے ملنے والی اپ ڈیٹ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اس وقت ایڈمنسٹریٹیو یونٹ میں رکھی گئی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اشیائے ضروریہ جیسے نماز کی ادائیگی کے لیے اسکارف اور اپنے دیگر ذاتی سامان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ ایک طرف ان کی والدہ عصمت صدیقی کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور دوسری طرف امریکی کارزویل جیل سے ایسی دل دہلادینے والی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی جیل میں قید قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی زندگی خطرے میں ہے، اس پر سفاکانہ حملہ ہوا ہے جس کا حکومت فوری طور پر نوٹس لے اور ان کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے انہیں رہا کرا کے وطن واپس لانے کے عمل کو تیز تر کرے۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کون ہیں۔۔۔؟

یاد رہے کہ پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک ڈاکٹر ہیں جن پر افغانستان میں امریکی فوجیوں پر حملے کا الزام ہے۔ مارچ 2003 میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اہم کمانڈر اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں تھی۔

عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے معاملے میں نیا موڑ اُس وقت آیا جب امریکا نے 5 سال بعد یعنی 2008 میں انہیں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائنائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں جن سے پتہ چلتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھیں۔

دی گارجئین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ سب بحیرہ عرب کے وسیع و عریض بندرگاہی شہر کراچی میں شروع ہوا۔ عافیہ کے والدین مڈل کلاس لوگ تھے جو اسلام اور تعلیم پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ ان کے والد محمد ایک انگریزی تربیت یافتہ ڈاکٹر تھے۔ ان کی والدہ عصمت آمر جنرل ضیاء الحق کی واقف تھیں۔

عافیہ ایک ہوشیار نوعمر لڑکی تھی اور 1990 میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ امریکہ گئی تھیں۔ ان کے متاثر کن گریڈز نے انہیں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور بعد میں برانڈیس یونیورسٹی میں داخلہ دلوایا، جہاں انہوں نے کوگنیٹیو نیورو سائنس میں گریجویشن کیا۔ 1995 میں انہوں نے کراچی کے ایک نوجوان ڈاکٹر امجد خان سے شادی کی۔ ایک سال بعد ان کا پہلا بچہ احمد پیدا ہوا۔

عافیہ ایک متاثر کن مسلم کارکن بھی تھیں۔ بوسٹن میں انہوں نے افغانستان ، بوسنیا اور چیچنیا کے لیے مہم چلائی۔ وہ خاص طور پر حاملہ بوسنیائی عورتوں کے مارے جانے کی گرافک ویڈیوز سے متاثر ہوئی تھیں۔ انہوں نے ای میل لکھیں ، فنڈ ریز کیا اور اپنی مقامی مسجد میں زوردار تقاریر کیں۔

لیکن جن فلاحی اداروں کے ساتھ انہوں نے کام کیا ان کے دھارے تیز تھے۔ مرسی انٹرنیشنل ریلیف ایجنسی کی ایک نیروبی برانچ مشرقی افریقہ میں 1998 کے امریکی سفارت خانے کے بم دھماکوں سے منسلک تھی۔ القاعدہ سے روابط کی وجہ سے تین دیگر خیراتی اداروں پر بعد میں امریکہ میں پابندی عائد کر دی گئی۔

11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد عافیہ کی زندگی میں ایک اہم موڑ آگیا۔ مئی 2002 میں ایف بی آئی نے ان سے اور ان کے شوہر سے کچھ غیر معمولی انٹرنیٹ خریداریوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جن میں تقریباً 10 ہزار ڈالر مالیت کے نائٹ ویژن چشمے، باڈی آرمر اور 45 فوجی طرز کی کتابیں بشمول انارکسٹ آرسنل شامل تھیں۔ (خان نے کہا کہ اس نے شکار اور کیمپنگ مہمات کے لیے سامان خریدا تھا۔)

ان کی شادی ٹوٹنا شروع ہوگئی۔ کچھ مہینوں کے بعد یہ جوڑا پاکستان واپس آیا اور اپنے تیسرے بچے سلیمان کی پیدائش سے دو ہفتے قبل اگست میں طلاق لے لی۔

کرسمس ڈے 2002 پر صدیقی نے اپنے تین بچوں کو اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان میں چھوڑ دیا اور بظاہر اکیڈمک ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کے لیے امریکہ واپس آگئیں۔ تاہم، 10 دن کے سفر کے دوران عافیہ صدیقی نے کچھ متنازع کام کیا، انہوں نے ماجد خان کے نام سے ایک پوسٹ بکس کھولا، جو القاعدہ کے ایک مبینہ ملزم ہے، اور بالٹیمور کے علاقے میں پٹرول اسٹیشنوں کو اڑانے کی سازش میں نامزد تھا۔ بعد ازاں استغاثہ نے کہا کہ پوسٹ باکس کا مقصد ان کے امریکہ میں داخلے کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

طلاق کے چھ ماہ بعد، انوہں نے کراچی کے قریب ایک چھوٹی سی تقریب میں 9/11 کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے بھتیجے عمار البلوچی سے شادی کی۔ صدیقی کے اہل خانہ شادی سے انکار کرتے ہیں ، لیکن اس کی تصدیق عافیہ نے خود پاکستانی اور امریکی انٹیلی جنس ، البلوچی کے رشتہ داروں اور ایف بی آئی کے انٹرویو رپورٹس کے مطابق عدالت میں دائر کی۔

مارچ 2003 میں ایف بی آئی نے صدیقی اور ان کے سابق شوہر امجد خان کے لیے عالمی الرٹ جاری کیا۔ پھر، کچھ ہفتوں کے بعد وہ غائب ہوگئیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے تین بچوں، چھ سالہ احمد ، چار سالہ مریم اور چھ ماہ کے سلیمان کے ساتھ ٹیکسی کے زریعے کراچی ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو ئیں۔ لیکن کبھی وہاں پہنچ نہ سکیں۔ (دوسری طرف ، امجد خان کا ایف بی آئی نے پاکستان میں انٹرویو لیا ، اور بعد میں انہیںرہا کر دیا گیا)

ابتدائی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ صدیقی کو پاکستان کی انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے سی آئی اے کے کہنے پر اٹھایا تھا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں سے اس نظریے کی تصدیق ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ صدیقی کا نام 9/11 کے اکسانے والے محمد نے بتایا تھا ، جو تین ہفتے قبل پکڑا گیا تھا۔

آگے کیا ہوا اس کے کئی اکاؤنٹس ہیں۔ امریکی حکومت کے مطابق عاگیہ بڑے پیمانے پر اسامہ بن لادن کی جانب سے تباہی کی سازش کر رہی تھیں۔ مئی 2004 میں امریکی اٹارنی جنرل جان اشکرافٹ نے انہیں القاعدہ کے سات "انتہائی مطلوب" مفروروں میں شامل کیا۔

انہوں نے کراچی کی خاتون کو دہشت گرد "سہولت کار" قرار دیتے ہوئے کہا جو امریکہ کے خلاف اپنی تعلیم کو استعمال کرنے پر آمادہ تھی۔

لیکن صدیقی کا خاندان اور حمایتی ایک الگ کہانی سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حملوں کی سازش کرنے کے بجائے ، صدیقی نے پانچ سال کابل کے شمال میں خوفناک بگرام حراستی مرکز میں گزارے، جہاں وہ ناقابل بیان ہولناکیوں کا شکار تھیں۔

برطانوی صحافی یوون ریڈلے،نے اصرار کیا کہ وہ "گرے لیڈی آف بگرام" ہے۔ ایک بھوت خاتون قیدی جس نے قیدیوں کو بیدار رکھا "اپنی خوفناک سسکیوں اور چھیدنے والی چیخوں سے"۔ 2005 میں مرد قیدی اس کی حالت زار سے اتنے مشتعل تھے کہ وہ چھ دن تک بھوک ہڑتال پر چلے گئے۔

ریڈلے جیسے مہم چلانے والوں کے لیے ، صدیقی تاریک امریکی طریقوں مثلاً اغوا ، پیشی اور تشدد کی علامت بن گئی ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ "عافیہ کو مسلم دنیا میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ لوگ امریکی سامراج اور تسلط سے ناراض ہیں۔"

لیکن امریکی حکومت کی ہر بڑی سیکیورٹی ایجنسی، فوج ، ایف بی آئی ، سی آئی اے نے اسے پکڑنے سے انکار کیا۔

اسلام آباد میں اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن اس سے بھی آگے چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صدیقی جولائی 2008 سے پہلے "کسی بھی وقت" امریکی حراست میں نہیں تھیں۔ ان کی زبان غیر معمولی طور پر دوٹوک تھی۔