Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,367,605 7,586
DEATHS 29,097 20
Sindh 523,774 Cases
Punjab 462,323 Cases
Balochistan 33,910 Cases
Islamabad 117,436 Cases
KP 184,455 Cases

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں لیکن ذہنی غلامی کی نہیں ٹوٹیں،اصل غلامی سے زیادہ بری ذہنی غلامی ہوتی ہے، ایک غلام ذہن کبھی بڑا کام نہیں کر سکتا۔

ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم کے اجرا ءکی تقریب سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میری 25 سال سے یہ خواہش تھی کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم ہولیکن لوگ مجھے کہتے تھے کہ یہ ناممکن ہے ،انگریزوں نےحکمرانی کیلئے2 طبقات بنادیئے تھے، ماضی میں امیروں کے بچے انگلش میڈیم تعلیمی اداروں میں پڑھتے تھے، سول سروس میں انگریزی نظام تعلیم میں نہ پڑھنے والے سول سروس میں نہیں جاسکتے تھے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے آزادی کے بعد سب سے بڑا ظلم یہ کیا کہ یکساں نظام تعلیم رائج نہیں کیا، تعلیم میں تقسیم کے باعث بچوں کی سوچ مختلف ہے، مراعات یافتہ طبقہ جب نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے تووہ اس کو تبدیل نہیں ہونے دیتا، ماضی میں یہی مراعات یافتہ طبقہ نظام سے فائدہ اٹھارہا تھا، ہم جانتے ہیں کہ یکساں نصاب کے نفاذ کلئےی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن کشتیاں جلا کر بڑے قدم کی طرف جانا پڑتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم کسی کی ثقافت کو اپنا کر پیغام دیتے ہیں وہ ہم سے بہتر ہیں، کبھی بھی ایک ذہین غلام بڑا کام نہیں کرسکتا، کسی کی نقل کرکے ہم اچھے غلام بن سکتے ہیں لیکن آگے نہیں جاسکتے کیونکہ دنیا میں اختراعی ذہن والے اوپر جاتے ہیں، ابھی افغانستان میں غلامی کی زنجیریں تو توڑ دی گئیں ہیں لیکن ذہنی غلامی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں۔