Aaj TV News

BR100 4,671 Increased By ▲ 6 (0.13%)
BR30 18,834 Increased By ▲ 160 (0.86%)
KSE100 45,369 Increased By ▲ 297 (0.66%)
KSE30 17,576 Increased By ▲ 146 (0.84%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

اسلام آباد:پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے عملے کی ملی بھگت سے مسافروں کو لوٹنے کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا، پاکستان سے سعودی عرب آنے والے مسافروں کو زبردستی قرنطینہ ہونے کیلئے ہوٹل لینے پر مجبور کیا جانے لگا ۔

مدینہ منورہ کے اسپتال میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر علی نواب 21 مئی کو تعطیلات گزارنے پاکستان پہنچے 29 جون کو لاہور سے مدینہ منورہ کی پی آئی اے کی پرواز PK9743 پر سوار ہونے کلئےت آئے مگر پی آئی اے لاہور کے عملے نے ڈاکٹر علی نواب کو بورڈنگ پاس دینے کے بعد زبردستی قرنطینہ کلئےب مدینہ منورہ میں ہوٹل لینے پر مجبور کیا بصورت دیگر فلائٹ پر سوار ہونے سے روک دیاگیا ۔

جس پر ڈاکٹر علی نواب نے اپنے آن لائن بکنگ کے ذریعے 98 ہزار 900کی رقم روتانہ انٹرپرائز کے نام ٹرانسفر کی اور جیسے ہی ڈاکٹر علی نواب مدینہ منورہ پہنچے تو پی آئی اے مدینہ منورہ اسٹیشن مینجر عرفان نے اپنے عملے کے منیر نامی شخص کے ذریعے زبردستی ڈاکٹر علی کو ہوٹل منتقل کیا ۔

ڈاکٹر علی نواب کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب سے پاکستان روانگی سے قبل کورونا وائرس سے بچاؤ کی دونوں خوراکیں لگوا چکے تھے جبکہ اس کے برعکس سعودی وزارت صحت کے بھی واضع احکامات ہیں کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف جو کہ سعودی عرب سے ویکسین لگوا چکے ہیں ان پر سعودی عرب پہنچنے پر قرنطینہ ہونے کی شرط لاگو نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر علی نواب کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کا عملہ جان بوجھ کر لوگوں کو ہوٹل لینے پر مجبور کر رہا ہے جبکہ ڈاکٹر علی نواب کی جانب سے سفارتخانہ پاکستان سمیت وزیراعظم عمران خان کے پورٹل پر بھی شکایت درج کروائی گئی ہے۔