Aaj TV News

BR100 4,979 Decreased By ▼ -47 (-0.94%)
BR30 24,460 Decreased By ▼ -313 (-1.26%)
KSE100 46,636 Decreased By ▼ -284 (-0.61%)
KSE30 18,480 Decreased By ▼ -178 (-0.95%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

آپ نے خلانوردوں کو انٹرنیشنل اسپیش اسٹیشن میں زیرو گریویٹی میں کھانا کھاتے دیکھا ہوگا، سوتے دیکھا ہوگا اور دیگر مختلف کام کرتے بھی دیکھا ہوگا۔ لیکن اب دلچسپ سوال یہ اٹھ چکا ہے کہ خلا نورد کپڑے کیسے دھوتے ہوں گے؟

دلچسپ لگنے والے اس سوال کا جواب سن کر شاید آپ کا دل متلا جائے، کیوںکہ خلا نورد کپڑے دھوتے ہی نہیں۔ بلکہ کپڑے، زیر جامے اور موزے وغیرہ اس وقت تک پہنتے رہتے ہیں جب تک ان کی بو قابلِ برداشت ہوتی ہے اور جب یہ کپڑے استعمال کے قابل نہیں رہتے تو خلا نورد انہیں کچرے میں ڈال دیتے ہیں۔

اب تک ان کپڑوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے خلا میں پہلے سے موجود متروک کارگو شپس میں بھرا جاتا رہا ہے۔ جو بعد ازاں زمین کے مدار میں بھیجے جانے کے دوران جل جاتے ہیں۔

لیکن "ناسا" اب اس مسئلے کا حل نکالنا چاہتا ہے۔ ناسا خلائی تحقیق کا امریکی ادارہ ہے۔ ناسا کو خدشہ ہے کہ اگر اس مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا تو ہر سال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور آنے والے برسوں میں چاند اور مریخ پر ٹنوں کے حساب سے میلے اور گندے کپڑوں کا ڈھیر لگ جائے گا۔

'ناسا' نے مشہور کمپنی 'پراکٹر اینڈ گیمبل' کے ساتھ مل کر ایک ایسے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ جس کی کامیابی کی صورت میں خلانورد نہ صرف خلا میں اپنے کپڑے صاف رکھ سکیں گے بلکہ زمین کی طرح ان کے کپڑے مہینوں بلکہ برسوں تک پہننے کے قابل بھی رہیں گے۔

پراکٹر اینڈ گیمبل نے رواں ہفتے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک خلا میں کپڑوں کی دھلائی کے تجربات کے لیے خصوصی طور پر تیار "ٹائڈ" ڈٹرجنٹ خلا میں بھیجے گی۔ جس کے بعد سائنس دان چھ ماہ کے دوران بے وزنی کی حالت میں انزائمز اور ڈٹرجنٹ میں شامل دیگر اجزا کے ردِّعمل کا جائزہ لے سکیں گے۔

اگلے مرحلے میں داغ دھبے مٹانے والے ریموول پین اور وائپس تجربے کے لیے خلا نوردوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کششِ ثقل نہیں ہوتی اور وہاں رہنے والے خلانورد "بے وزنی" کی کیفیت میں فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ جس کے باعث انہیں ہڈیوں اور پٹھوں کے کئی مسائل کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔

ناسا کے سابق خلا نورد لیلینڈ میلون کے مطابق ان مسائل سے بچنے کے لیے خلا نوردوں کو روزانہ دو گھنٹے ورزش کرنا پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ورزش کے کپڑے پسینے سے تر ہو جاتے ہیں، ان میں بو بھی پیدا ہوجاتی ہے اور پسینہ سوکھنے پر یہ کپڑے اکڑ جاتے ہیں۔

ایک ہفتے کے اندر ان کی ٹی شرٹس، شارٹس اور موزے اس قدر میلے اور بدبودار ہوجاتے ہیں کہ انہیں تبدیل کرنا ہی پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ میلے کپڑے زہریلے ہوجاتے ہیں۔