Aaj TV News

BR100 5,093 Decreased By ▼ -3 (-0.06%)
BR30 25,710 Decreased By ▼ -45 (-0.17%)
KSE100 47,312 Decreased By ▼ -6 (-0.01%)
KSE30 18,963 Decreased By ▼ -11 (-0.06%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,020,324 4,497
DEATHS 23,209 76
Sindh 374,434 Cases
Punjab 354,904 Cases
Balochistan 30,019 Cases
Islamabad 86,602 Cases
KP 142,799 Cases

لاہور:پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا،ابتدائی اندازےکےمطابق صوبے کےبجٹ کامجموعی حجم2600ارب کےلگ بھگ ہوگا،ٹیکس وصولی کا تخمینہ241ارب روپےلگایاگیاہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کلئےا سالانہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 560 ارب کے لگ بھگ ہو گا، ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص ہو گا جبکہ سالانہ ترقیاتی بجٹ میں لاہور کیلئے 62 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج تجویز کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں 2 کھرب 65 ارب روپے جاری ترقیاتی اسکیموں جبکہ ایک کھرب 30 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحت کلئے سب سے زیادہ رقوم مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ا سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر و میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 100 ارب، پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیلئے 41 ارب 66 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اسکول ایجوکیشن 35 ارب، ہائیر ایجوکیشن کیلئے 10 ارب 24 کروڑ،ا سپیشل ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک ارب روپے، فراہمی و نکاسی آب کے منصوبوں کیلئے 58 ارب 24 کروڑ اور آبپاشی کیلئے 44 ارب خرچ کرنے کی تجویز ہے۔

زراعت کیلئے 23 ارب، مواصلات کے منصوبوں کیلئے 28 ارب، گورننس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 18 ارب 86 کروڑ، محکمہ داخلہ کیلئے ایک ارب 90 کروڑ جبکہ توانائی کے منصوبوں کیلئے 12 ارب 88 کروڑ رکھے جائیں گے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا تخمینہ 241 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں نئے ٹیکسوں کی بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر فوکس کیا جائے گا تاہم دس سال سے پرانی گاڑیوں پر دی گئی 25 فیصد وہیکلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔