Aaj TV News

BR100 4,644 Decreased By ▼ -89 (-1.89%)
BR30 20,295 Decreased By ▼ -45 (-0.22%)
KSE100 45,304 Decreased By ▼ -240 (-0.53%)
KSE30 17,708 Decreased By ▼ -103 (-0.58%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,269,806 572
DEATHS 28,392 6
Sindh 468,164 Cases
Punjab 439,307 Cases
Balochistan 33,204 Cases
Islamabad 106,749 Cases
KP 177,553 Cases

لاہور:پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ کل پیش کیا جائے گا، ابتدائی اندازے کے مطابق صوبے کے بجٹ کا مجموعی حجم 2600 ارب کے لگ بھگ ہو گا، ٹیکس وصولی کا تخمینہ 241 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کلئے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 560 ارب کے لگ بھگ ہو گا،ترقیاتی بجٹ کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص ہو گا جبکہ سالانہ ترقیاتی بجٹ میں لاہور کیلئے 62 ارب روپے کا ترقیاتی پیکج تجویز کیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال میں 2 کھرب 65 ارب روپے جاری ترقیاتی سکیموں جبکہ ایک کھرب 30 ارب روپے نئے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں صحت کیلئے سب سے زیادہ رقوم مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اسپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر و میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 100 ارب، پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر کیلئے 41 ارب 66 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اسکول ایجوکیشن 35 ارب، ہائیر ایجوکیشن کیلئے 10 ارب 24 کروڑ، سپیشل ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں پر ایک ارب روپے، فراہمی و نکاسی آب کے منصوبوں کیلئے 58 ارب 24 کروڑ اور آبپاشی کیلئے 44 ارب خرچ کرنے کی تجویز ہے۔

زراعت کیلئے 23 ارب، مواصلات کے منصوبوں کیلئے 28 ارب، گورننس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 18 ارب 86 کروڑ، محکمہ داخلہ کیلئے ایک ارب 90 کروڑ جبکہ توانائی کے منصوبوں کیلئے 12 ارب 88 کروڑ رکھے جائیں گے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا تخمینہ 241 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں نئے ٹیکسوں کی بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر فوکس کیا جائے گا تاہم 10سال سے پرانی گاڑیوں پر دی گئی 25 فیصد وہیکلز ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز ہے۔